اسرائیل پر ایرانی بیان سے ’مایوسی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں ایرانی صدر احمدی نژاد کے بیان پر انہیں ’تعجب اور مایوسی‘ ہوئی ہے۔ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی اِرنا کے مطابق صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی اسرائیل کی تباہی دیکھنا چاہیں گے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ سے پہلی بار انہیں اسرائیل کی کمزوری کا پتہ چلا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کا دیرینہ اور مکمل رکن ہے، اور اسے وہی ذمہ داریاں اور حقوق حاصل ہیں جو کسی دوسرے رکن کو۔ بان کیمون نے کہا: ’اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ریاست کی سیاسی آزادی یا جغرافیائی اتحاد کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں۔‘ اِرنا کے مطابق صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ ’قابض طاقت (اسرائیل) کی بالادستی بکھر گئی ہے، اور لبنانی قوم نے بٹن دبادی ہے کہ صیہونی ریاست کی تباہی کے دن گنے جائیں۔‘ ایرانی صدر نے مزید کہا: ’انشاء اللہ، مستقبل قریب میں ہم کرپٹ قابض طاقت کی تباہی دیکھیں گے۔‘ اکتوبر 2005 میں ایرانی صدر نے ایک بیان کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی جگہ پر فلسطینی ریاست کا خاکہ دیکھتے ہیں۔ ان کے اس بیان کا ترجمہ ذرائع ابلاغ نے یوں کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو ’صفحۂ ہستی سے مٹانا‘ چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود صدر احمدی نژاد کا اصرار رہا ہے کہ ایران اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ | اسی بارے میں احمدی نژاد کی مشکلات میں اضافہ27 February, 2007 | آس پاس اسرائیل اور ایران ’سب سے بُرے‘06 March, 2007 | آس پاس جیسا کرو گے ویسا بھرو گے: خامنہ ای 22 March, 2007 | آس پاس امریکی حملے کا خطرہ نہیں: ایران24 February, 2007 | آس پاس ایران سے مذاکرات ناممکن نہیں: رائس30 April, 2007 | آس پاس ’مزید پابندیوں کا وقت آگیا ہے‘23 May, 2007 | آس پاس ’ایران کو بھی تباہ کیا جا سکتا ہے‘09 May, 2006 | آس پاس امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟02 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||