’اب مجھے جانا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیلی جنگ کو چالیس برس مکمل ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے صرف چھ دن کی لڑائی میں مصر، اردن اور شام کی افواج کو شکست فاش دی اور اس جنگ کے بعد سے مشرق وسطی کا جغرافیائی اور سیاسی منظر نامہ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوگیا۔ اسرائیل نے یہ جنگ عرب ملکوں کی جانب سے ممکنہ حملے کا خطرہ ختم کرنے کے لیے شروع کی تھی، اور جب جنگ بندی ہوئی تو وہ مصر سے غزہ کی پٹی اور صحرہ سنائی، شام سے گولان کی پہاڑیاں، اور اردن سے غرب اردن اور ارر مشرقی یروشلم چھین چکا تھا۔ ڈاکٹر ذکریہ القاق القدس یونیورسٹی کے نائب صدر ہیں اور جب جنگ چھڑی تو مشرقی یروشلم کے فصیل بند شہر میں رہتے تھے۔ یہ ان کی نظروں سے اس جنگ کی ایک جھلک ہے۔ انیس سو سڑسٹھ میں جب جنگ چھڑی، اس وقت میں بارہ برس کا تھا۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ وہ پیر کا دن تھا اور صبح کے دس بج رہے تھے کہ اردنی اور اسرائیلی افواج کے درمیان فائرنگ شروع ہوگئی۔ میں تب بھی( مشرقی یروشلم کے) اسی گھر میں رہتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر اردنی فوج نے مورچے قائم کر رکھے تھے اور اس علاقے کا انچارج افسر میرے مرحوم والدین کو بتا رہا تھا کہ فوجی رسد اگلے محاذوں تک پہنچانے کے لئے ایک نئی سڑک بنانے کی ضرورت ہے۔ وہ بیٹھا ہوا کافی پی رہا تھا کہ پہلی گولی چلی۔ وہ باہر بالکونی میں گیا، فائرنگ کی آواز سنی، اور میرے والدین سے کہنے لگا کہ مجھے جانا ہوگا، لگتا ہے کہ جنگ شروع ہوگئی ہے۔ وہ اپنی کافی آدھی ہی چھوڑ کر چلا گیا، اور اس کے بعد ہم نے اسے دوبارہ نہیں دیکھا۔ میں نے اس طرح کی لڑائی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ فائرنگ اور گولہ باری کے بیچ میں ننگے پیر ہی اپنے والدین کےساتھ پڑوس کے ایک گاؤں ابو دیس پہنچا، جہاں لڑائی سے بچنے کے لیے ہم نے ایک غار میں پناہ لی۔ میری والدہ دل کی پرانی مریض تھیں، اور میرے والد کافی بوڑھے، لیکن پھر بھی ہم پہاڑی راستوں سے پیدل ہی گزرتے ہوئے جریکو پہنچے۔شدید گرمی پڑ رہی تھی پھر بھی سارے راستے میرے والد نے کندھے پر کپڑوں کا ایک بنڈل اٹھائے رکھا۔ ہم جنگ کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ جنگ کے نتیجے میں ہماری زندگیاں ہی بدل گئیں۔ مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ ہوگیا۔ اور اب مقبوضہ علاقوں کو الگ کرنے کے لیے فصیل کی تعمیر کےبعد سے ہم اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب سے بچھڑ گئے ہیں۔ جن لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیں پہلے پانچ منٹ لگتے تھے، اب لمبی پلاننگ کرنی پڑتی ہے۔ فلسطینی اب آنے جانے میں ہی اپنا بیشتر وقت برباد کردیتے ہیں۔ مشرقی یروشلم میں ہم گنجان آبادی والے علاقوں میں رہتے ہیں، ٹیکس بہت زیادہ ہیں، اور سہولتیں کم۔ لہذا ہماری زندگیاں ان لوگوں کی زندگیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں جو فصیل کے دوسری طرف رہتے ہیں۔ اگر آپ مشرقی یروشلم کی سڑکوں پر نکلیں، تو اسرائیلی فوجی اب بھی آپ کو حالت جنگ کے لیے تیار نظر آئیں گے۔ اسرائیلی ایک متحد یروشلم کی بات ضرور کرتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ شہر پوری طرح بٹا ہوا ہے۔ آپکو ایک بات سمجھنی ہوگی، چاہے آپ جنت میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں، مقبوضہ علاقے کی زندگی، مقبوضہ علاقے کی ہی زندگی ہے۔ |
اسی بارے میں عرب اسرائیل جنگ:’ میڈیا حقیقت چھپاتا رہا‘04 June, 2007 | آس پاس مشرق وسطیٰ بحران، پاکستان میں اجلاس25 February, 2007 | پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں29 September, 2006 | آس پاس نئے مشرق وسطی پر شکوک کا اظہار 29 July, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ بحران سے امریکہ کیا حاصل کرے گا24 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||