مشرق وسطیٰ بحران، پاکستان میں اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے سیکرٹری جنرل اسلام آباد میں ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکی کے وزرائے خارجہ پاکستانی دفترِ خارجہ میں ہونے والے اس اجلاس میں شریک ہیں۔ تاہم مشرقِ وسطٰی کے اہم ممالک ایران اور شام اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے سعودی عرب میں مسلم ممالک کی ایک کانفرنس بلانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں فلسطین، لبنان اور عراق کی صورتحال اور ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم شوکت عزیز اس اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کریں گے اور اس کے اختتام پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سمیت تمام شرکاء صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شریک ہونے والے تمام رہنماؤں میں اس بات پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مسلم دنیا کو ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں ایران اور شام اپنی غیر حاضری کی وجہ سے نمایاں ہو نگے۔ عرب ذرائع ابلاغ میں بعض جگہ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے شیعہ اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے ذریعے ایک ’سُنی بلاک‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے ذریعے کسی ملک کو تنہا نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا ’اسے (اجلاس کو) اس طرح ہر گز نہ لیا جائے‘۔ یاد رہے کہ صدر مشرف نے حال ہی میں سعودی عرب اور اردن سمیت کئی مسلم ممالک کو دورہ بھی کیا تھا۔
پاکستان کے ایک سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا اسلام آباد میں اکٹھے ہونے والے سات مسلم ممالک اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے شاید ہی کوئی لائحہ عمل دے پائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اسے ایک کوشش ضرور کہا جا سکتا ہے، جس سے فوری نتیجے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کو صرف یہ سات ممالک حل نہیں کر سکتے۔ |
اسی بارے میں مسلم ممالک کی اقتصادی یونین05 November, 2006 | پاکستان نائن الیون: پاکستان میں بدلتی صورتحال11 September, 2006 | پاکستان فلسطین کے لیئے پاکستان کی امداد07 June, 2006 | پاکستان کارٹون: او آئی سی اقوام متحدہ جائیگی15 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||