BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 February, 2007, 03:59 GMT 08:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ بحران، پاکستان میں اجلاس
او آئی سی ممالک کے جھنڈے
پاکستانی وزیراعظم اور وزیرِخارجہ بھی اجلاس میں شریک ہیں
پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے سیکرٹری جنرل اسلام آباد میں ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکی کے وزرائے خارجہ پاکستانی دفترِ خارجہ میں ہونے والے اس اجلاس میں شریک ہیں۔

تاہم مشرقِ وسطٰی کے اہم ممالک ایران اور شام اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے سعودی عرب میں مسلم ممالک کی ایک کانفرنس بلانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں فلسطین، لبنان اور عراق کی صورتحال اور ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مشترکہ لائحہ عمل
 بڑھتی ہوئی شدت پسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مسلم دنیا کو ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے
پاکستانی وزارت خارجہ

وزیراعظم شوکت عزیز اس اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کریں گے اور اس کے اختتام پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سمیت تمام شرکاء صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شریک ہونے والے تمام رہنماؤں میں اس بات پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مسلم دنیا کو ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔

مبصرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں ایران اور شام اپنی غیر حاضری کی وجہ سے نمایاں ہو نگے۔ عرب ذرائع ابلاغ میں بعض جگہ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے شیعہ اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے ذریعے ایک ’سُنی بلاک‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے ذریعے کسی ملک کو تنہا نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا ’اسے (اجلاس کو) اس طرح ہر گز نہ لیا جائے‘۔

یاد رہے کہ صدر مشرف نے حال ہی میں سعودی عرب اور اردن سمیت کئی مسلم ممالک کو دورہ بھی کیا تھا۔

ایسی کوئی بات نہیں
 اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے ذریعے کسی ملک کو تنہا نہیں کیا جا رہا
وزیر اعظم ترکی

پاکستان کے ایک سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا اسلام آباد میں اکٹھے ہونے والے سات مسلم ممالک اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے شاید ہی کوئی لائحہ عمل دے پائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم اسے ایک کوشش ضرور کہا جا سکتا ہے، جس سے فوری نتیجے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کو صرف یہ سات ممالک حل نہیں کر سکتے۔

امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
محمد خاتمی دہشگردی میں اضافہ
پالیسی تشدد کو فروغ دے رہی ہیں: خاتمی
حنیف قریشی فاشزم اور نسل پرستی
حنیف قریشی کا امریکہ میں انٹرویو
مشرق وسطیٰ بحران
لبنان اور اسرائیل تنازعے کا انجام کیا ہو گا
riceمشن مشرق وسطیٰ
مشرق وسطیٰ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوگا؟
اسی بارے میں
مسلم ممالک کی اقتصادی یونین
05 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد