BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نہرالبارد میں لڑائی، سولہ ہلاک
فوجی ٹینک کیمپ کے اطراف میں تعینات ہیں
لبنان کے نہرالبارد فسلطینی رفیوجی کیمپ میں پناہ لینے والے اسلامی شدت پسندوں اور لبنان کی فوج کے درمیان لڑائی ہورہی ہے جس میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

جمعہ کی شب شروع ہونے والی اس لڑائی میں ہلاک ہونے والوں میں چار فوجی بھی شامل ہیں۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔

لبنانی افواج کا کہنا ہے کہ وہ نہر البارد کیمپ میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔ تیرہ دنوں سے جاری اس لڑائی میں شہریوں سمیت ایک سو سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔

فتح الاسلام کا موقف
 فتح الاسلام کا کہنا ہے کہ وہ ’صیہونی امریکی اور ان کے حمایتی‘ یعنی لبنانی فوج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ فتح الاسلام اور لبنان کی فوج کے درمیان لڑائی بیس مئی کو شروع ہوئی تھی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کیمپ کے اکتیس ہزار میں سے پچیس ہزار فلسطینی پناہ گزین لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ امدادی اداروں نے فائربندی کی اپیل کی ہے تاکہ وہاں سے پھنسے ہوئے افراد کو نکلنے کا موقع مل سکے۔

فتح الاسلام ایک فلسطینی شدت پسند تنظیم ہے جو کہ لبنان کی حکومت کی مخالف ہے۔ لبنان کا کہنا ہے کہ فتح الاسلام کے القاعدہ سے روابط ہیں۔ امریکہ نے حال ہی میں لبنان کی فوج کو عسکری امداد پہنچائی ہے۔

لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ فتح الاسلام کے کارکنوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ اس کے حملوں کا مرکز نہرالبارد کیمپ کے جنوبی اور شمالی دروازں کے قریب ہے۔ وہاں لبنانی فوج کے درجنوں ٹینک اور مسلح گاڑیاں تعینات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسند کیمپ کے اندر چلے گئے ہیں جہاں گلیوں اور عمارتوں کے جنگل میں ان کے لیے پناہ حاصل ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ بعض شدت پسند شہریوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

شام کی مداخلت کا الزام
 لبنان کی کابینہ میں شام مخالف ارکان نے فتح الاسلام کو شام کی خفیہ ایجنسیوں کا ایک آلہ بتایا ہے لیکن شام کی حکومت ان الزامات سے انکار کررہی ہے۔ شام کی افواج کئی عشروں تک لبنان میں تعینات رہی تھیں۔
لبنان میں پارلیمانی امور کے جونیئر وزیر میشل فراؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے فوج کو شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ’ہری جھنڈی‘ دکھا دی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی فلسطینی گروپ فتح الاسلام کے خلاف کارروائی کی حمایت کررہے ہیں۔

لبنان کی کابینہ میں شام مخالف ارکان نے فتح الاسلام کو شام کی خفیہ ایجنسیوں کا ایک آلہ بتایا ہے لیکن شام کی حکومت ان الزامات سے انکار کررہی ہے۔ شام کی افواج کئی عشروں تک لبنان میں تعینات رہی تھیں۔

گزشتہ بدھ کو لبنان کے ایک فوجی مجسٹریٹ نے فتح الاسلام کے بیس ارکان پر ’دہشت گردی‘ کا الزام لگایا۔ ان پر لبنانی فوجیوں کی ہلاکت کے الزام ہیں اور الزام ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔

فتح الاسلام کا کہنا ہے کہ وہ ’صیہونی امریکی اور ان کے حمایتی‘ یعنی لبنانی فوج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ فتح الاسلام اور لبنان کی فوج کے درمیان لڑائی بیس مئی کو شروع ہوئی تھی۔

لبنان میں بارہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ ہیں جو سن 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد تعمیر کیے گئے تھے۔ اس کیمپ میں فلسطینی شدت پسند عام طور پر اسلحہ لیکر چلتے ہیں اور لبنانی فوج روایت کے مطابق کیمپ میں داخل نہیں ہوتی ہے۔

لبنانجھڑپیں اور انخلاء
نہرالبارد کے پناہ گزین مشکلات کا شکار
سابق امریکی سفارتکار جان بولٹناسرائیل، حزب اللہ
’امریکہ نے لبنان جنگ بندی میں رکاوٹ ڈالی‘
حزب اللہ کا احتجاجبیروت: احتجاج جاری
لبنان میں حزب اللہ کا سیاسی معرکہ جاری
رفیق حریریرفیق حریری کا قتل
مقدمہ عالمی عدالت میں چلانے کی منظوری
لبنانتعمیر نو کا چیلنج
چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور 150 پُل تباہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد