نہر البارد: فریقین میں شدید فائرنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی لبنان میں نہر البارد کےفلسطینی پناہ گزین کیمپ میں شدت پسندوں اور لبنانی فوج کے درمیان دوبارہ شدید فائرنگ ہوئی ہے۔ فائرنگ اور گولہ باری کا تازہ ترین سلسلہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر تیس منٹ پر شروع ہوا اور بیس منٹ تک جاری رہا۔ لبنانی فوجی حکام کے مطابق تازہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب کیمپ کے اندر سے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی جس کا فوجیوں نے جواب دیا جبکہ فتح الاسلام کے ترجمان ابوسالم طہٰ نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ فائرنگ میں پہل فوج نے کی۔ لبنانی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی دھمکی دی تھی جس سے اس بات کے اندیشہ پیدا ہوا تھا کہ لبنانی فوج کسی بھی وقت کیمپ پر چاروں جانب سے حملہ شروع کر دے گی جس سے کیمپ کے اندر موجود شہریوں کے بارے میں تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ لبنانی وزیرِ دفاع کی جانب سے آپریشن کی دھمکی کے باوجود فتح الاسلام کے کارکنوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق کچھ شدت پسندوں نے دو کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر کے راستے فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن لبنانی بحریہ نے ان کشتیوں پر فائرنگ کرکے انہیں ڈبودیا اور ان پر سوار تمام شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ نہر البارد مہاجر کیمپ میں ہونے والی جھڑپیں اب پانچویں دن میں داخل ہو چکی ہیں اور اب تک اس لڑائی میں کم از کم پچاس فوجی اور شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع نہیں ہے۔لبنانی وزیر اعظم فواد سنیورا نے کہا ہے کہ ’حکومت دہشت گردی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی‘ اور اس کے خاتمے کے لیے کام کرتی رہے گی۔ نہرالبارد کیمپ میں تیس ہزار کے قریب پناہ گزین رہائش پذیر تھے جن میں سے کئی ہزار وہاں سے نکل آئے ہیں لیکن اب بھی وہاں ہزاروں پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔ کیمپ میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی کے دوران جب تیرسے دن وقفہ ہوا تو بہت سے پناہ گزین کیمپ سے نکل کر ایک نزدیکی فلسطینی کیمپ میں پناہ لے چکے ہیں۔
اس کے علاوہ کل رات بیروت کے نزدیک ایک قصبے میں ہونے والے بم دھماکے میں 16 افراد زخمی ہو گئے۔گزشتہ چار دنوں میں یہ تیسرا بم دھماکہ ہے۔نہر البارد نامی فلسطینی مہاجر کیمپ میں لبنانی فوج کے ساتھ لڑنے والے شدت پسند گروپ فتح الاسلام نے ان دھماکوں کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ہے۔لیکن کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں دھماکوں کا آپس میں تعلق ہے۔ سترہ سال قبل خانہ جنگی ختم ہونے کے بعد اس کیمپ میں ہونے والی لڑائی اب تک کی سب سے خون ریز لڑائی ہے۔ یہ لڑائی اتوار کو اس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی دستوں نے بینک میں ایک ڈاکے سے متعلق مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے لیےتریپولی میں ایک عمارت پر چھاپہ مارا۔ شدت پسند گروپ فتح الاسلام نےمہاجر کیمپ کے دروازے پر سکیورٹی فورسز پر حملہ کر دیا۔لبنانی فوج نے کیمپ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ فتح الاسلام ایک شدت پسندگروپ ہے اور خیال ہے کہ القاعدہ کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ | اسی بارے میں لبنان: دونوں اطراف سے لڑائی جاری21 May, 2007 | آس پاس جھڑپوں میں 50 سے زیادہ ہلاک21 May, 2007 | آس پاس لبنان: پناہ گزینوں کی نقل مکانی22 May, 2007 | آس پاس لبنان: ہزاروں کی نقل مکانی23 May, 2007 | آس پاس ’ہتھیار ڈال دیں ورنہ آپریشن ہوگا‘23 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||