BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 23:13 GMT 04:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہتھیار ڈال دیں ورنہ آپریشن ہوگا‘
لبنان
شدت پسندوں نے بھی اپنے دفاع میں لڑنے کا اعلان کیا ہے
لبنان کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں موجود شدت پسندوں نے اگر ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں مزید فوجی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

الیاس المّر نے العربیہ ٹی وی چینل پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی فوج کی گولہ باری سے بچ جانے والے شدت پسندوں کے پاس دو راستے ہیں’اول جو ہماری ترجیح ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں یا پھر جو ہم نہیں چاہتے یعنی فوجی کارروائی‘۔

الیاس المّر کا کہنا تھا کہ فوج’شدت پسندوں اور مجرموں کے گروہ‘ سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ان افراد کی قسمت میں گرفتاری ہے اور اگر انہوں نے مزاحمت کی تو پھر موت‘۔

اب تک لڑائی میں لبنانی فوج اور شدت پسندوں کے تقریباً پچاس افراد ہلاک ہو چکے جبکہ شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ فوج اور فتح ال اسلام نامی شدت پسند گروپ کے درمیان چند روز پہلے چھڑنے والی لڑائی میں تعطل کے بعد ہزاروں فلسطینی شمالی لبنان کے نہر البارد پناہ گزین کیمپ کو چھوڑ کر جا رہے ہيں۔

 فوج شدت پسندوں اور مجرموں کے گروہ سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔ ان افراد کی قسمت میں گرفتاری ہے اور اگر انہوں نے مزاحمت کی تو پھر موت
الیاس المّر

یہ بحران ختم کرنے کے لیے بات چیت تو جاری ہے لیکن اب تک باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فتح الاسلام کے فیلڈ کمانڈروں ميں سے ایک شاہین ال شمی کا کہنا ہے کہ جب تک ان پر حملے کیے جائیں گے اس وقت تک وہ اپنی دفاع کے لیے لڑتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا’ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں کو قتل کیا جائے اور ہم کھڑے دیکھتے رہیں؟ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہمارے بھائیوں پر کہیں بھی ایک بھی گولی چلائی گئی تو ہم اس کا اپنی پوری طاقت سے جواب دیں گے‘۔

دوسری جانب یورپی یونين کے امورِ خارجہ کے سربراہ ہاویئر سولانہ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین لڑائی روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی پوری طرح سے حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمیں وزیر اعظم سنیورا کی حمایت کرنا ہوگی۔ جس طرح تمام لبنانی رہنما اور سیاسی جماعتیں اپنی فوج کا ساتھ دے رہی ہیں، ہمیں اس بات کی حمایت کرنا ہوگی۔ کیونکہ ان پر حملہ ہوا ہے۔ ہم سیاسی طور پر ان کی حمایت کر رہے ہیں، وہاں موجود اقوام متحدہ کی افواج میں بھی زیادہ تر یورپی شامل ہیں جبکہ ہم مالی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں‘۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے بھی شمالی لبنان پر فتح الاسلام کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ملک کے استحکام اور حاکمیت پر ایک ناقابل قبول حملہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد