لبنان: پناہ گزینوں کی نقل مکانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں اسلامی شدت پسندوں اور فوج کے درمیان تین دن سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں شمالی لبنان میں واقع پناہ گزین کیمپ سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ طرابلس کے نواح میں واقع نہر البارد نامی اس فلسطینی مہاجر کیمپ کے رہائشی فتح الاسلام نامی گروہ اور لبنانی فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور گولہ باری میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ جان ہومز نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ کیمپ کے اندر امداد پہنچنے دیں۔ یاد ہرے کہ منگل کو امدادی قافلے بھی کیمپ میں خوراک اور پانی کی ترسیل کے لیے داخل ہوئے تھے لیکن انہیں اس وقت واپس جانا پڑا جب قافلے کی گاڑیوں کے نزدیک گولے گرے۔ ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنانی حکومت کی جانب سے تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔ لبنانی فوج اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان اس وقت غیر اعلانیہ جنگ بندی جاری ہے اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی میں آنے والے حالیہ وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیمپ کے رہائشی علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔
کیمپ کے افسر حاج رفعت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ہزاروں مہاجرین جن میں مرد ،عورتیں اور بچے شامل ہیں، سرِ شام ہی پیدل یا گاڑیوں پر قریبی بداوی کیمپ کی جانب روانہ ہو گئے ہیں‘۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایسی گاڑیوں کو جن پر دس کے قریب افراد سوار تھے، سفید جھنڈے لہراتے ہوئے نکلتے دیکھا گیا ہے۔ کیمپ کے رہائشی اشرف ابو خورج نے بی بی سی کو بتایا’حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ نہ بجلی ہے، نہ خوراک اور نہ ہی پانی۔ کیمپ میں کوئی ہسپتال بھی نہیں جبکہ بہت سے لوگ زخمی ہیں جو ہلاک ہو رہے ہیں‘۔ غیر اعلانیہ جنگ بندی کے بعد لڑایی کی شدت میں تو کمی آئی ہے تاہم اب بھی اکا دکا جھڑپیں جاری ہیں۔ | اسی بارے میں جھڑپوں میں 50 سے زیادہ ہلاک21 May, 2007 | آس پاس لبنان: دونوں اطراف سے لڑائی جاری21 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||