BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 May, 2007, 19:38 GMT 00:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلئرکے 10 سال: خود انکے الفاظ میں
ٹونی بلیئر
ٹونی بلئر نے دس سال کے دوران انتہائی سرد و گرم حالات کا سامنا کیا
ٹونی بلیئر نے گزشتہ دس سال کے دوران لیبر پارٹی کے لیڈر کے طور پر انتہائی اہمیت کے حامل مواقع پر کیا کیا کہا۔

1994
12 مئی جان سمتھ کے انتقال پر ردِ عمل:
’جو بھی جان سمتھ کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ بے پناہ قوت اور اتھارٹی کے حامل تھے وہ اس ملک کے لیے قوت کا مینار ثابت ہوئے۔

لیڈر شپ کی مہم کے لیفلٹ سے:
’ہمیں لازماً لیبر پارٹی کو احتجاج کرنے والی ایک سیاسی جماعت سے برسرِ اقتدار پارٹی میں تبدیل کرنا چاہیے‘۔

15 جولائی، بی بی سی ریڈیو 4 ٹوڈے:
’میرے خیال میں ریفرنڈم ہی مناسب ہے تاکہ لوگ فیصلے کر سکیں کہ ملک کے لیے کون سا الیکٹرول نظام زیادہ بہتر ہے‘۔

21جولائی پارٹی قائد بننے کے بعد خطاب:
’میں اس وقت تک اطمینان سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی اور برسرِ اقتدار آنا ہمارے عوام اور پارٹی کا مقتدر نہیں بن جاتا‘۔

یکم دسمبر، آئی ٹی وی کے پروگرام، گڈ مارننگ میں، اپنے بیٹے کو امداد پر چلنے والے سکول میں بھیجنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے:
’تمام والدین وہی چاہتے ہیں جو ان کے بچوں کے لیے بہترین ہو۔ میں بھی اپنے بچے کے لیے اس بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کروں گا کے سیاسی طور پر کیا کرنا زیادہ درست ہے‘۔

1995
25مئی، ایوان نمائندگان میں جان میجر پر طنز:
’میں پارٹی کی قیادت کرتا ہوں اور وہ پارٹی کی پیروی‘۔

ستمبر : ٹی یو کانفرنس میں
’میں لیبر پارٹی میں احتجاج کرنے کے لیے شامل نہیں ہوا۔ میں اس میں اس لیے شامل ہوا ہوں کہ یہ حکومت میں آنے والی جماعت ہے اور میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ یہ حکومتی جماعت ہے‘۔

3 اکتوبر: پارٹی کانفرنس میں برطانیہ کے بارے میں خطاب:
’ایک نیا ملک جو طاقتور ملک بھی بننا چاہتا ہو، خاندان کے بارے میں اخلاقی طور پر غیر جانبدار نہیں ہو سکتا‘۔

30 نومبر، وکٹوریہ البرٹ میوزیم میں خطاب:
’مراعات یافتہ طبقے اور حکومت و نجی شعبے کے مفادات کے برخلاف ہم عام لوگوں کی طرف ہیں‘۔

1996
2 مئی ڈیلی ٹیلیگرام:
’میرا منصوبہ اس دن مکمل ہو جائے گا جس دن لیبر پارٹی پیٹر مینڈلسن سے محبت کرنا سیکھ جائے گی‘۔

سات اپریل ڈیلی ٹیلیگراف:
’میں ایسے سیاستدانوں کو برداشت نہیں کر سکتا جو ہر بات پر خدا کا حوالہ دیتے ہیں‘۔

14 مئی، چارٹر 88 میں خطاب:
’ہم سیاست ہی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ محکوموں اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو ختم کر سکیں اورگہری بے اطمینانی کو ختم کر سکیں جو پچھلے کچھ برسوں کے دوران سیاست کے بارے میں پیدا ہوئی ہے‘۔

20 ستمبر، سی بی آئی کانفرنس سے خطاب:
’ہم ٹیکسوں میں اضافے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں رکھتے‘۔

یکم اکتوبر کو پارٹی کانفرنس سے خطاب:
’اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ حکومت کی تین ترجیحات کیا ہیں تو میں آپ میں آپ سے کہوں گا : تعلیم، تعلیم، تعلیم‘۔

یکم اکتوبر کو پارٹی کانفرنس سے خطاب:
’جب انتخابات ہو رہے ہوں گے تو نئے ہزاریے کو شروع ہونے میں 1000دن باقی ہوں گے، اگلے 1000 سال کی تیاری کے لیے 1000 دن، ہمارے لیے اپنے مقدر کے انتخاب کا مرحلہ‘۔

پارٹی کانفرنس سے خطاب:
’تکلیفوں کے سات سال بھی ہمیں ہمارے خوابوں سے نہیں روک سکے‘۔

1997

17 اپریل کو روزنامہ سن کے لیے مضمون:
مجھے پتہ ہے کہ جب لوگ دس پاؤنڈ کے نوٹ پر ملکہ کی تصویر دیکھتے ہیں تو کیا محسوس کرتے ہیں۔ میں بھی وہی محسوس کرتا ہوں‘۔

17 اپریل کو انتخابی مہم کے دوران:
’ہمارہ پاس صرف 14 دن ہیں، این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کو بچانے کے لیے‘۔

2 مئی کو فتح مندی کے بعد رائل فیسٹیول ہال میں خطاب:
’ہم نئی لیبر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں اور ہم نئی لیبر حکومت کے طور نظام چلائیں گے‘۔

2 مئی کو ڈاؤننگ سٹریٹ میں پہلا خطاب:
’میں ایک ایسی حکومت بنانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے اس ملک میں سیاست پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو‘۔

7 مئی کو لیبر پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب:
’آقا ہم نہیں لوگ ہیں۔ ہم تو لوگوں کے خادم ہیں اور اس بات کو ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے‘۔

31 اگست کو پرنسس آف ویلز ڈیانا کے انتقال پر:
’وہ لوگوں کی شہزادی تھیں اور یہی وہ رہیں گی، ہمیشہ ہمارے دلوں اور دماغوں میں‘۔

16 نومبر کو بی بی سی ون پر، لیبر پارٹی کو فارمولہ ون کے سربراہ کی جانب سے عطیے سے پیدا ہونے والے تنازعے کے حوالے سے:
’میرا خیال ہے کہ جن لوگوں کو مجھ سے واسطہ پڑا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں بالکل سیدھا چلنے والا آدمی ہوں اور میں ہوں‘۔

1998

24 فروری کو رائل فیسٹیول ہال میں خطاب:
’اب اپنے آپ سے فخریہ کہہ سکیں گے ’میلینیم ڈوم‘ ہماری یادگار ہے، برطانیہ کی یادگار ہے اور یہ ساری دنیا کے لیے قابلِ رشک ہو گی‘۔

8 اپریل کو ’گڈ فرائیڈے کے معاہدے پر منتج ہونے والے مذاکرات کے لیے بلفاسٹ پہنچنے پر:
’آج کا دن صرف باتوں کا دن نہیں ہے۔ بلکہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کا ہاتھ ہمارے کاندھوں پر ہے۔ میں واقعی یہی محسوس کر رہا ہوں‘۔

8 اکتوبر کو ایوننگ سٹینڈرڈ میں، اپنی اہلیہ شیری کے بارے میں:
’وہ ہمیشہ ہی ایک بہت بہتر وکیل رہی ہیں مجھ سے بھی بہتر‘۔

1999
22 اپریل: اکنامک کلب شکاگو:
’جرائم کےخلاف ہم سب انتہائی سخت گیر ہیں، ہم سب جرائم کے اسباب کے خلاف بھی سخت گیر ہیں۔ لبرل اور ہارڈ لائنرز کے درمیان جاری بحث ختم ہو چکی ہے‘۔

اکنامک کلب شکاگو:
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں علیحدہ رہنے کے جواز کا کوئی وجود نہیں ہے‘۔

6 جولائی کو سرکاری شعبے میں اصلاحات کے بارے میں:
’حکومت میں دو سال کے بعد مجھے اپنی پیٹھ پر خراشیں محسوس ہو رہی ہیں‘۔

2000

نو اپریل کو پدری رخصت نہ لینے پر:
’میں خود کو کبھی وزیراعظم محسوس کرنے سے نہیں روک سکوں گا‘۔

7 جولائی، بی بی سی کے پروگرام کوئسچن ٹائم میں:
’میرا بیٹا بنیادی طور پر ایک اچھا بچہ ہے۔ ہم سب اس میں سے گزرے ہیں اور وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا‘۔

22 ستمبر کو لیبر کانفرنس سے تیل پر بندش کے بعد خطاب:
’میں وزیراعظم ہوں اور وزیراعظم میں رائے عامہ کو جاننے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ دو ہفتے قبل جو کچھ پیش آیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے حکومت کو ہلا دیا ہے اور یہ میرے وقت میں ہوا ہے اور میں اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں‘۔

2001

13 مئی، روزنامہ آبزرور سے پہلی مدت کے بارے میں:
’میرے خیال میں پینشن میں 75 پینی (اضافے) کے خلاف ہم نے ضوابط کا استعمال کیا۔ لیکن یہ ایسا کرنا غلطی تھا‘۔

16 مئی، نائب وزیراعظم جان پریسکوٹ کے بارے میں:
’جان جان ہیں اور میں خوش قسمت ہوں کہ وہ میرے نائب ہیں‘۔

4 جون، نیوز نائٹ:
’مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ ڈیوڈ بیکہم کی آمدنی کم ہو‘۔

8 جون کو الیکشن میں کامیابی کے بعد:
’یہ میری پارٹی کی ایک اہم تاریخی فتح ہے لیکن مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھے پتہ ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ یہ اصلاحات اور مستقبل میں سرمایہ کاری کا مینڈیٹ ہے۔ اور یہ واضح ہدایت ہے کہ ہمیں کچھ کر دکھانا ہے‘۔

11 ستمبر کو امریکہ میں دہشت گرد حملوں کے بعد:
’جن لوگوں نے یہ حملے کیے ہیں، میرے پاس ان کی مذمت کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ ان کی بربریت تا ابدیت ان کے لیے باعث شرم رہے گی‘۔

2002

3 فروری، موسم بہار میں لیبر پارٹی کے اجلاس سے خطاب:
’اس پارلیمنٹ کی جنگ ہے، ابتری کے برخلاف اصلاحات اور یہ جنگ ہمیں بہر صورت جیتنی ہے‘۔

24 ستمبر کو عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہ کاری کے ہتھیاروں کے بارے میں جاری کی جانے والی دستاویز کا پیش لفظ:
’ یہ دستاویز انکشاف کرتی ہے کہ ان کی فوجی منصوبہ بندی میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ڈبلیو ایم ڈی یا وسیع تباہی لا سکنے والے ہتھیاروں کو پینتالیس منٹ میں قابلِ اسعمال بنا سکتے ہیں‘۔

8 نومبر، ڈاؤننگ سٹریٹ میں عراق پر گفتگو:
’جنگ ناگزیر نہیں لیکن تخیف اسلحہ ہے‘۔

2003

18 اپریل اپنے بچوں کو یہ بتانے پر کہ وہ عراق کے مسئلے پر وزاراتِ عظمیٰ سے محروم ہو سکتے ہیں:
’میں ان کے ساتھ بیٹھا اور ایک مرحلے پر میں انہیں بتایا کہ یہ ایک انتہائی دشوار مرحلہ ہے اور اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ حالات میرے خلاف ہو جائیں‘۔

18 مارچ عراق پر ووٹنگ سے پہلے ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب:
’یہ خوشامد کا وقت نہیں ہے بلکہ یہ وقت ہے کہ یہ ایوان رہنمائی کرے‘۔

21 مارچ جنگ کے آغاز پر قوم سے خطاب:
’مجھے پتہ ہے کہ اس عمل سے ہمارے ملک میں شدید اختلافِ رائے پیدا ہوا ہے‘۔

28 اگست، ہٹن انکوائری اور بی بی سی کی عراقی ہتھیاروں کے بارے میں خبر کے مشکوک ذرائع کے بارے میں:
’میں اس فیصلے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ فیصلہ درست تھا‘۔

2004

28 جنوری ایوان نمائندگان میں ہٹن رپورٹ پر بحث:
’یہ الزام کہ میں نے یا کسی اور نے اس ایوان میں جھوٹ بولا ہے اور جان بوجھ کر وسیع تباہی کے عراقی ہتھیاروں کے بارے میں جھوٹی خفیہ اطلاعات کے ذریعے اس ایوان کو گمراہ کیا ہے بذاتِ خود ایک حقیقی جھوٹ ہے‘۔

26 فروری، اقوام متحدہ کے دفاتر میں جاسوسی کے آلات کے بارے میں:
’آج صبح کلیرے شارٹ نے جو کچھ کہا ہے میں واقعی اسے انتہائی غیر ذمہ دارانہ سمجھتا ہوں‘۔

25 مارچ، لیبیا کے کرنل قذافی سے تاریخی بات چیت کے بعد:
’اس کا مطلب ماضی کی تکلیف کو بھلانا نہیں لیکن اس کا مطلب اس ضرورت کو محسوس کرنے کے وقت کا احساس ہے اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت ہے‘۔

یکم اکتوبر لیبر کی سالانہ کانفرنس کے بعد بی بی سی بات کرتے ہوئے:
’اگر میں منتخب ہو گیا تو تیسری پوری مدت مکمل کروں گا۔ میں چوتھی مدت نہیں چاہتا۔ میں نہیں سمجھتا کے برطانوی عوام اس بات کو پسند کریں گے کہ کوئی وزیراعظم اتنے طویل عرصے تک اقتدار میں رہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ انتہائی مناسب ہے کہ اب میں اپنے ارادے واضح طور پر بیان کر دوں‘۔

2005

اپریل، ڈاکٹر کیلی کی موت پر نیوز نائٹ میں:
’یہ واقعہ انتہائی، انتہائی اندوہناک ہے لیکن ہمارے پاس ان کا نام ظاہر کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا اور اگر ہم ایسا نہ کرتے تو یہ سمجھا جاتا کہ ہم نے اِس معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی سے کوئی بات چھپانے کی کوشش کی ہے‘۔

7 جولائی کو لندن میں دھماکوں کے بعد:
’یہ برطانوی عوام کے لیے انتہائی دکھ کا دن ہے لیکن ہمیں بڑی قوت سے برطانوی طرزِ حیات پر برقرار رکھنا ہو گا‘۔

5 اگست: دہشت گردوں کے بارے میں حکومت کی پالیسی کے بارے میں:
’کھیل کے طریقے بدل گئے ہیں۔ ہم ان لوگوں کا خیر مقدم کریں گے جو امن پسند اور قانون کا احترام کرنے والے ہیں۔ جو لوگ برطانوی شہری بننا چاہتے ہیں انہیں ہماری اقدار اور طرزِ زندگی میں شرکت کرنا ہو گی۔ اگر آپ ہمارے ملک آئے ہیں تو آپ کو شدت پسندی میں ملوث ہونے سے گریز کرنا ہو گا اور اگر آپ اس میں ملوث ہوں گے تو پھر آپ کو واپس جانا ہی ہو گا‘۔

27 ستمبر: لیبر کانفرنس سے خطاب:
’جب میں حکومت میں کوئی اصلاح متعارف کراتا ہوں تو ماضی کی مثالوں کی طرف دیکھنے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھتا ہوں‘۔

9 نومبر، دہشت گردی کے شبہے میں نوے روز تک مقدمہ چلائے بغیر نظر بند رکھنے کے لیے ووٹ حاصل نے کر سکنے پر:
’جیت کر غلط کام کرنے کی بجائے بعض اوقات ہارنا اور درست اقدام کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے‘۔

2006

4 مارچ، عراق کی جنگ کا فیصلہ کرنے میں عیسائی عقیدے کا کردار:
’میرے خیال میں اگر ان چیزوں پر آپ کا یقین ہے تو آپ سمجھیں گے کہ دوسروں نے فیصلہ کیا ہے اور اگر آپ خدا پر یقین کرتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خدا کر طرف سے ہوا ہے‘۔

7 ستمبر، اپنے خلاف بغاوت کو کوشش کے بارے میں:
’میرا خیال ہے کہ کہ سب سے اہم ہے ملک کا مفاد اور اس بار میں ہمیں ہی آگے ہی بڑھنا چاہیے۔ جہاں تک میرے جانے کے وقت کا تعلق تو میں اسے اپنے طور پر طے کرنے کو ترجیح دوں گا اور جیسا کے کابینہ میں میرے بہت سے ساتھیوں نے کہا کہ چند ہفتوں میں ہونے والی آئندہ پارٹی کانفرنس بطور لیڈر میری آخری پارٹی کانفرنس ہو گی‘۔

26 ستمبر لیبر کانفرنس:
’سیاست میں اوپر کی سطح پرتعلقات آسان نہیں ہوتے۔ آپ ایسی تیزتر روشنی کی زد میں ہوتے ہیں جو سیدھی آپ پر پڑ رہی ہوتی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ گورڈن براؤن کے بغیر نہ تو نئی لیبر پارٹی ہی بن سکتی اور نہ ہی تین انتخابی کامیابیاں حاصل کی جا سکتیں۔ وہ ایک انتہائی غیر معمولی آدمی ہیں۔ اس ملک کے ایک غیر معمولی خادم۔ اور یہی سچائی ہے‘۔

26 ستمبر، لیبر کانفرنس:
’سچ تو یہ ہے کہ آپ ہمیشہ کسی مقام پر نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ بطور رہنما یہ میری آخری کانفرنس ہے‘۔

17 نومبر، الجزیرہ پر عراق میں تشدد کے حوالے سے سر ڈیوڈ کے اس سوال کے جواب میں کہ ’اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے انتہائی تباہ کن ہے‘:
’یہ ہے، اور اسی لیے تو میں لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ عراق میں اس پر قابو پانا مشکل کیوں ہے؟ یہ مشکل اس لیے نہیں ہے کہ اس کی منصوبہ بندی میں حادثاتی غلطی ہوئی‘۔

2007
9 جنوری سابق عراقی لیڈر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کے بعد:
’جیسا کہ دوسرے وزراء کے تبصروں اور خود میرے سرکاری ترجمان کے بیان سے ظاہر ہے، صدام حسین کو جس طرح پھانسی دی گئی ہے وہ مکمل طور پر غلط تھا‘۔

2 فروری، دوسری بار پولیس کی جانب سے انٹرویو کے بعد:
’میں اپنے کردار کے بارے میں کوئی درخواست نہیں کروں گا‘۔

26 مارچ، شمالی آئر لینڈ کو حکومت کی منتقلی کے اعلان کے بعد:
’شمالی آئر لینڈ کے عوام کے لیے یہ انتہائی اہم دن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ دوسرے جزائر کے عوام اور لوگوں کے لیے بھی اہمیت حامل ہے‘۔

بلیئربلیئر کی کہانی
شریر طالبعلم سے کامیاب ترین لیبر لیڈر تک
ٹونی بلیئر کے سیاسی شب وروزکیا کھویا ، کیا پایا
ٹونی بلیئر کے سیاسی شب و روز
بلیئر ’بلیئر اور میڈیا‘
جھوٹ، چکر بازی اور جارحیت کے ماہ و سال
بلیئررخصتی کے بعد
تاریخ بلیئر کو کیسے یاد رکھے گی؟
غلامی برطانیہ دو سال بعد
افسوس اور تاسف لیکن پوری معافی نہیں
کیا یہ اہم موڑ ہے؟
امریکہ عراق میں جیتا ہے یا تہنا ہوا ہے؟
گورڈن براؤن اور بلیئر’صرف چہرے نہیں‘
پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی: گورڈن براؤن
اسی بارے میں
ٹونی بلیئر کی کہانی
10 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد