برطانوی بحریہ کے اہلکار وطن روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی بحریہ کے پندرہ اہلکار تیرہ روز ایران کی قید میں رہنے کے بعد وطن روانہ ہو گئے ہیں۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ان کی رہائی کو برطانیہ کے لیے تحفہ قرار دیا ہے۔ ایران کی طرف سے برطانوی بحریہ کے پندرہ اہلکاروں کی غیر متوقع رہائی پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی خفیہ سودے بازی نہیں کی گئی ہے۔ ایران سے روانہ ہونے سے قبل کئی اہلکاروں نے ایرانی ٹیلی ویژن پر اپنی رہائی پر شکریہ ادا کیا۔ لیفٹنٹ فیلکس کارمن نے نے کہا ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ ہماری طرف سے بظاہر ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر ایرانیوں نے ہتک کیوں محسوس کی ہو گی‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس واقعے سے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے قیام میں مدد ملے گی۔ فے ٹرنر نے کہا ’ہم اپنے کیے پر معذرت خواہ ہیں، لیکن رہائی پر ہم آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘۔ دونوں اہلکاروں نے کہا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔
ایران کے صدر نے اپنا مؤقف دہرایا کہ برطانوی اہلکاروں نے ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی رہائی برطانیہ کے لیے تحفہ ہے۔ تاہم اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن نے ایران کی طرف سے برطانوی بحریہ کے اہلکاروں کی رہائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایران کی ایک واضح جیت قرار دیا اور کہا ہے کہ اس سے ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے بدھ کو غیر متوقع طور پر دو ہفتے قبل مبینہ طور پر ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے برطانوی بحریہ کے پندرہ اہلکاروں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ اسلام کے آخری نبی حضرت محمد کی ولادت کے موقع پر ان فوجیوں کو برطانیہ کے لیے تحفہ کے طور پر رہا کر رہے ہیں۔ بدھ کی رات کو ایران کے ایک ٹی وی چینل نے رہا ئی پانے والے تین سیلرز کے انٹرویوز نشر کیئے جن میں انہوں نے ایران کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر نے یہ اعلان ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے کیا، جس کے دوران ایرانی صدر نے ان کمانڈوز کو میڈلز بھی دیئے جنہوں نے کارروائی کر کے برطانوی فوجیوں کو خلیج فارس سے حراست میں لیا تھا۔ | اسی بارے میں مقدمہ نہیں چلانا چاہتے: لاریجانی03 April, 2007 | آس پاس ’فوجیوں کی رہائی، اگلے دو دن اہم‘03 April, 2007 | آس پاس ’برطانوی فوجیوں کا نیا اعتراف‘ 01 April, 2007 | آس پاس ’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘31 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس ’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘25 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||