BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 January, 2007, 10:25 GMT 15:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال: یواین معائنہ کاروں کا کام شروع
ماؤ باغی
باغیوں کا اسلحہ خصوصی کنٹینرز میں بند کردیا جائے گا
نیپال میں حکومت اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان امن معاہدہ کے دو ماہ بعد اقوام متحدہ کے اسلحہ معائنہ کاروں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اسحلہ کے معائنہ کاروں کی انیس رکنی ٹیم میں فوج کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی شامل ہیں اور ان کا تعلق اردن، یمن اور کینیڈا کے ممالک سے ہے۔ تاہم جلد ہی ان کی تعداد میں اضافہ کردیا جائے گا اور امکان ہے کہ یہ تعداد 150 تک پہنچ جائے گی۔ یہ ٹیمیں ماؤ باغیوں کے اسلحے کوجمع کرنے کے لیے حال ہی میں قائم کیے گئے سات کیمپوں کا معائنہ کریں گی جو ابتدائی طور پر کاٹھمنڈو اور مغربی شہر نیپال گنج میں قائم کیے گئے ہیں۔

امن معاہدے کے بعد فریقین کے درمیان جاری دس سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس خانہ جنگی میں تقریبًا تیرہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیپال کے وزیراعظم گرجہ پرساد کوئرالہ سمیت حکومتی حکام اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ عبوری آئین کی منظوری دی گئی تھی جس کا اطلاق پندرہ جنوری سے ہوگا۔ اس نئے آئین کے تحت وزیراعظم کو کہیں زیادہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور اس کی رو سے ماؤ باغیوں پر مشتمل ایک عبوری انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔

اگلے ہفتے سے اسلحہ معائنہ کار باغیوں کے اسلحہ کو کنٹینرز میں جمع کرنے کا کام شروع کردیں گے جو اس مقصد کے لیے پہلے سے ہی کیپموں میں رکھ دیے گئے ہیں۔

باغیوں کے بعد فوج بھی اسلحہ جمع کروائے گی

ماؤ نواز باغیوں کی صورت حال قدرے مختلف ہے۔ اب بھی ماؤ باغیوں کی بڑی تعداد نے شہریوں کے گھروں میں پناہ لے رکھی ہے یا وہ مفرور ہیں۔

باغی اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام کی جانب سے مدد کی پیشکش پر بھی تذبذب کا شکار ہیں تاہم جیسے ہی اسلحہ جمع کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو توقع ہے کہ باغی عبوری حکومت میں شامل ہو جائیں گے جس کا وعدہ انہوں نے پہلے گزشتہ سال جون میں کیا تھا۔

ملک کی فوج بھی بیرکوں تک محدود ہو گئی ہے۔ باغیوں کے بعد فوجی بھی اپنے ہتھیار جمع کروائیں گے جن کی رجسٹریشن کا کام باغیوں کی جانب سے مقرر کردہ افراد انجام دیں گے۔

امن معاہدے کی کامیابی کے حوالے سے تھوڑی بہت نا امیدی بھی پائی جاتی ہے تاہم اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امن معاہدے پر اقوام متحدہ کی موجودگی میں طے شدہ نکات کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد