نیپال میں امن معاہدہ، تشدد ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان امن معاہدے طے پا گیا ہے اور ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دس سال سے جاری تشدد اب ختم ہو جائے گا۔ ماؤ نواز باغیوں اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان اس امن معاہدہ کی دستاویز کا تبادلہ دارالحکومت کھٹمنڈو میں منگل کو ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا۔ ماؤ نواز باغی دس سال سے جاری مسلح جدوجہد ترک کر کے اب ملکی سیاست میں حصہ لیں گے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیئے جمہوری عمل میں شریک ہوں گے۔ ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان یہ معاہدہ طے پانے کی کئی دنوں سے توقع کی جا رہی تھی۔ نیپال میں دس سال سے جاری کشمکش میں تیرہ ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے ہونے والے معاہدے کو پڑھ کر سناتے ہوئے ایک اعلی حکومتی مذاکرات کار کرشنہ سٹیولانہ نے جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا چھ ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی اب مستقل ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بعد جو بھی تشدد کے واقعات میں ملوث ہوگا اسے ملکی قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔ معاہدہ کا اعلان کرنے کے لیئے منعقد کی جانے والی تقریب میں سفارت کاروں، سیاست دانوں ، سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ | اسی بارے میں نیپال امن مذاکرات کا اگلا دور شروع08 October, 2006 | آس پاس نیپال: بادشاہت قائم تو مذاکرات ختم08 August, 2006 | آس پاس نیپال: حکومتی فائر بندی کااعلان 03 May, 2006 | آس پاس نیپال:وزیر اعظم کی امن کی اپیل30 April, 2006 | آس پاس نیپال: طاقت کی شراکت کا معاہدہ17 June, 2006 | آس پاس شاہ نیپال تفتیشی پینل کے سامنے29 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||