نیپال: بادشاہت قائم تو مذاکرات ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کےدوسرے بڑے رہنما کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ملک میں بادشاہت برقرار رکھنے پر اصرار کرتی ہے تو پھر اس کے ساتھ جاری امن بات چیت ختم ہو سکتی ہے۔ بابو رام بھٹارائے نے کہا کہ نیپال کے لوگ باد شاہت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ باغیوں نے فائر بندی کی معیاد میں توسیع کر دی ہے لیکن ساتھ ہی حکومت پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کو آگے بڑھائے۔ بابو رام بھٹا رائے کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ ماؤ نواز رہنماؤں نے اپریل میں بادشاہ کی طرف سے برا راست حکومت ختم کرنے اور پارلیمان بحال کرنے پر فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ اور پھر مئی میں انہوں نے سات دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت میں شامل ہونے کی تاریخی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اگر حکومت باد شاہت کو تحفظ دیتی ہے تو ہمارے لیئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ ہم اس سے الگ ہو جائیں۔ ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے مابین تعلقات حال ہی میں باغیوں کو غیر مسلح کرنے کے مسئلہ پر خراب ہو گئے۔ حکومت چاہتی ہے کہ یہ عمل اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہو جبکہ ماؤ نواز گروپ ایسا نہیں چاھتا۔ | اسی بارے میں اب اور جنگ نہیں: نیپال باغی 01 July, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کے وفاداروں سے تفتیش24 June, 2006 | آس پاس نیپال: طاقت کی شراکت کا معاہدہ17 June, 2006 | آس پاس نیپال: حکومتی فائر بندی کااعلان 03 May, 2006 | آس پاس نیپال: نئے انتخابات کی تجویز 01 May, 2006 | آس پاس نیپال میں شاہ مخالف تحریک ختم25 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||