BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 June, 2006, 06:33 GMT 11:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال: شاہ کے وفاداروں سے تفتیش
بادشاہ گیانندرا
شاہ نےاپریل میں پارلیمان بحال کی تھی
نیپال میں ایک عدالتی کمیشن نے کہا ہے کہ سابق شاہی حکومت کے ارکان کو طلب کرکے ان کے خلاف لگائے جانے والے مظالم کے الزامات کی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

اس سال کے آغاز میں جمہوریت کے حق میں کیئے گئے مظاہروں کے دوران شاہی حکومت کی جانب زیادتی کے کئی الزامات ہیں۔ یہ کمیشن ان حالات و واقعات کی تحقیق کے لیئے خصوصی طور پر قائم کیا گیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران 21 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

بڑے پیمانے پر احتجاج کے سلسلے کے نتیجے ہی میں نیپال کے شاہ نے براہ راست اقتدار چھوڑ کر پارلیمان بحال کی تھی۔

عدالتی کمیشن کے چیئرمین کرشنا رایاماجھی نے بتایا ہے کہ کمیشن نے ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن سابق شاہی حکومت کے ارکان کو اگلے ہفتے طلب کرکے ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی بنیاد انصاف پر ہونی چاہیئے اور شاہی حکومت کے اکان کو اپنے بیانات قلمبند کرونے کا پوا موقع دیا جائے گا۔

ابھی ان افراد کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم چند اخبارات نے قیاس آرائیاں کی ہیں کہ اس فہرست میں شاہ گیانندرہ کے نائب ڈاکٹر تلسی گری اور فوج کے سابق سربراہ جنرل سشت شمشیر رانا شانل ہو سکتے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ شاہ گیانندرہ کے ایک اہم مشیر سراد چندرہ شاہ بدھ کے روز بیرون ملک جاچکے ہیں۔

کمیشن کو اپنی رپورٹ اگلے ماہ پیش کرنی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد