نیپال: پانچ سابق وزراء کی گرفتاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں پانچ سابق وزراء کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ افراد بادشاہ کی حکومت میں شامل تھے جو پچھلے ماہ عوامی احتجاج کے بعد ختم ہو گئی تھی۔ عوامی مظاہروں اور احتجاج کے بعد شاہ گنیندر پارلیمان کو بحال کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ نیپال کے سرکاری ریڈیو کے مطابق حراست میں لیئے جانے والے وزراء میں سابق وزیر داخلہ کمال تھاپا، سابق وزیر خارجہ رمیش ناتھ، سابق وزیر اطلاعات شریش سمشیر، سابق وزیر برائے ترقیاتی امور تنکا دھاکل اور جیونئیر وزیر نکشیا شمشیر رانا شامل ہیں۔ ان وزراء کو نوے دن تک پولیس کی حراست میں رکھا جائے گا۔ ان افراد کی گرفتاری ایک نئی انکوائری کے قائم کیے جانے کے بعد ہوئی ہے۔ انکوائری کمیشن پچھلے ماہ ملک میں عام احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف حکومتی اہلکاروں کے رویے کی تحقیق کر رہی ہے۔ قومی تفتیشی ادارے کے سربراہ اور پولیس کے دو اعلی افسروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ کمیشن نے فوج کے سربراہ کو بھی معطل کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم حکومت نے کو انہیں اپنے عہدے سے نہیں ہٹایا ہے۔ کمیشن کی رائے تھی کہ اگر یہ افراد ان عہدوں پر فائز رہے تو وہ عوامی احتجاج کے دوران کی گئی انسانی حقوق کی خلافورزیوں کی تفتیش کو خراب کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ عوامی احتجتاج کے دوران سکیورٹی افواج نےمظاہرین پر آنسو گیس کے علاوہ گولی بھی چلائی تھی۔ اس فائرنگ میں بیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ یہ انکوائری کمیشن دو ماہ بعد اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرےگا۔ |
اسی بارے میں نیپال:’زیادتی‘ کی تحقیقات کا اعلان10 May, 2006 | آس پاس نیپال: نئے انتخابات کی تجویز 01 May, 2006 | آس پاس نیپال:وزیر اعظم کی امن کی اپیل30 April, 2006 | آس پاس نیپال میں شاہ مخالف تحریک ختم25 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||