اب اور جنگ نہیں: نیپال باغی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں باغی رہنما نے اب تک کا سب سے مضبوط اشارہ دیا ہے کہ وہ پرتشدد کارروائیوں کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ پراچندہ کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ انتخابات کے معاہدے کا مطلب ہے کہ وہ اب جنگ کی راہ نہیں اختیار کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ امن مذاکرات ناکام ہوگئے تو پھر شہر کی سڑکوں اور گلیوں پر احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں گے۔ اس سال کے آغاز میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے نتیجے ہی میں نیپال کے شاہ نے براہ راست اقتدار چھوڑ کر پارلیمان بحال کی تھی جس کے بعد باغیوں اور حکومت نے دو ماہ پہلے سیزفائر کے معاہدے پر دستخط کیئے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران 21 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔ گزشتہ دس سال سے جاری باغیوں کی مہم کے نتیجے میں 13000 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسی دوران دو مرتبہ امن مذاکرات کی کوشش بھی کی گئی۔ ایک مرتبہ پانچ سال قبل اور پھر تین سال قبل۔ تاہم پراچندہ کا کہنا ہے کہ اب حالات مختلف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آرہی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد منتخب شدہ اسمبلی نیا آئین بنائے گی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ان الزامات کو رد کیا کہ حالیہ سیزفائر کے دوران باغیوں نے نو افراد کو ہلاک کیا ہے۔ | اسی بارے میں نیپال میں چھ مظاہرین ہلاک 26 April, 2006 | آس پاس نیپال:وزیر اعظم کی امن کی اپیل30 April, 2006 | آس پاس نیپال: نئے انتخابات کی تجویز 01 May, 2006 | آس پاس نیپال: حکومتی فائر بندی کااعلان 03 May, 2006 | آس پاس فیصلہ نیپالی عوام کا ہے: باؤچر03 May, 2006 | آس پاس نیپال:’زیادتی‘ کی تحقیقات کا اعلان10 May, 2006 | آس پاس نیپال: پانچ سابق وزراء کی گرفتاری12 May, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کے اختیارات و مراعات14 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||