نیپال: طاقت کی شراکت کا معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان کو تحلیل کرکے ایسی عبوری حکومت قائم کرے گی جس میں ماؤ نواز باغیوں کو بھی شریک کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ماؤ رہنما پراچندرا اور وزیر اعظم جی پی کوئرالہ کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔ نیپال میں ماؤ مزاحمت کاری کے دس سالہ دور میں 13000 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلز ہیوی لینڈ نے کہا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امن کا قیام اب زیادہ دور نہیں تاہم ابھی بھی یہ تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ معاہدے میں ماؤ باغیوں کی تشدد آمیز کارروائیاں روکنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک اخبار نے اس فیصلے کو ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے بھارت موہن کا کہنا ہے کہ ’اس تاریخی معاہدے سے ایک مسلح تنازع پرامن طور پر ختم کردیا گیا ہے‘۔ یہ جماعت حکمراں اتحاد کا حصہ اور ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔ تاہم کچھ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ حکومت باغیوں کے مطالبات کے سامنے جھک گئی ہے۔ نیپالی کانگریس کے رام چندرا کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کامقصد امن کا قیام ہے تاہم اس میں کئی چیلنج بھی درپیش ہیں۔ اس معاہدے کے تحت نیپال کی حال ہی میں بحال کی گئی پارلیمان، سولہ سال پرانا آئین اور اتحادی حکومت ختم ہوجائیں گے۔ عوام کو بھی کئی خدشات لاحق ہیں۔ ایک بتیس سالہ دکاندار کیدر پرساد کا کہنا ہے کہ ’ہمیں باغیوں پر اتنی جلدی بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے‘۔ کھٹمنڈو میں جمعہ کو ہونے والے مذاکرات باغیوں اور حکومت کے درمیان پہلے باقاعدہ مذاکرات تھے۔ | اسی بارے میں نیپال میں چھ مظاہرین ہلاک 26 April, 2006 | آس پاس نیپال:وزیر اعظم کی امن کی اپیل30 April, 2006 | آس پاس نیپال: نئے انتخابات کی تجویز 01 May, 2006 | آس پاس نیپال: حکومتی فائر بندی کااعلان 03 May, 2006 | آس پاس فیصلہ نیپالی عوام کا ہے: باؤچر03 May, 2006 | آس پاس نیپال:’زیادتی‘ کی تحقیقات کا اعلان10 May, 2006 | آس پاس نیپال: پانچ سابق وزراء کی گرفتاری12 May, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کے اختیارات و مراعات14 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||