BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 August, 2006, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاہ نیپال تفتیشی پینل کے سامنے

شاہ کی زیادہ تر مراعات واپس لے لی گئی ہیں
نیپال میں ایک پینل اس سال کے آغاز پر جمہوریت کے حق میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بارے میں شاہ گیانندرہ سے پوچھ گچھ کرے گا۔

نیپال میں پہلی بار شاہی حکمرانوں کو اس طرح کی پوچھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اپریل میں شاہ کے برہ راست اقتدار کے خلاف کیئے جانے والے ان مظاہروں میں 21 لوگ ہلاک اور 5000 زخمی ہوگئے تھے۔

یہ پینل اس حکمراں اتحادی جماعتوں کا ہے جنہوں نے شاہ کے اختیارات کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالا ہے۔

پینل کے ایک رکن ہریہر براہی نے بتایا ہے کہ شاہ کے پرنسپل سیکرٹری کو جمعرات کو پینل کے سامنے طلب کیا گیا ہے تاکہ شاہ سے پوچھ گچھ کے طریقہ کار کا تعین کیا جاسکے۔

پانچ ارکان پر مشتمل اس پینل کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کررہے ہیں۔ اس سے قبل اسی کریک ڈاؤن کے متعلق شاہی حکمرانی کے دور میں کام کرنے والے کئی اعلٰی اہلکاروں اور وزراء سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔ پینل کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں میں سے کئی نے ان واقعات کی ذمہ داری کے حوالے سے شاہ کی طرف انگلی اٹھائی ہے۔

شاہی حکمرانوں پر اپریل کے شاہ مخالف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیئے لاکھوں ڈالر کے غلط استعمال کے الزامات بھی ہیں۔

نیپال کے قانون کے تحت شاہ سے پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی تاہم پارلیمان کی حالیہ ترمیم سے شاہ کے بیشتر اختیارات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں
نیپال: آرمی چیف مسترد
16 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد