شاہ نیپال تفتیشی پینل کے سامنے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ایک پینل اس سال کے آغاز پر جمہوریت کے حق میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بارے میں شاہ گیانندرہ سے پوچھ گچھ کرے گا۔ نیپال میں پہلی بار شاہی حکمرانوں کو اس طرح کی پوچھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپریل میں شاہ کے برہ راست اقتدار کے خلاف کیئے جانے والے ان مظاہروں میں 21 لوگ ہلاک اور 5000 زخمی ہوگئے تھے۔ یہ پینل اس حکمراں اتحادی جماعتوں کا ہے جنہوں نے شاہ کے اختیارات کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالا ہے۔ پینل کے ایک رکن ہریہر براہی نے بتایا ہے کہ شاہ کے پرنسپل سیکرٹری کو جمعرات کو پینل کے سامنے طلب کیا گیا ہے تاکہ شاہ سے پوچھ گچھ کے طریقہ کار کا تعین کیا جاسکے۔ پانچ ارکان پر مشتمل اس پینل کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کررہے ہیں۔ اس سے قبل اسی کریک ڈاؤن کے متعلق شاہی حکمرانی کے دور میں کام کرنے والے کئی اعلٰی اہلکاروں اور وزراء سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔ پینل کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں میں سے کئی نے ان واقعات کی ذمہ داری کے حوالے سے شاہ کی طرف انگلی اٹھائی ہے۔ شاہی حکمرانوں پر اپریل کے شاہ مخالف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیئے لاکھوں ڈالر کے غلط استعمال کے الزامات بھی ہیں۔ نیپال کے قانون کے تحت شاہ سے پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی تاہم پارلیمان کی حالیہ ترمیم سے شاہ کے بیشتر اختیارات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ | اسی بارے میں نیپال: شاہ کے وفاداروں سے تفتیش24 June, 2006 | آس پاس اب اور جنگ نہیں: نیپال باغی 01 July, 2006 | آس پاس نیپال: طاقت کی شراکت کا معاہدہ17 June, 2006 | آس پاس نیپال: بادشاہت قائم تو مذاکرات ختم08 August, 2006 | آس پاس نیپال: آرمی چیف مسترد 16 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||