نیپال: آرمی چیف مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے قائم مقام آرمی چیف کے خلاف مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ انھیں فوراً آرمی چیف کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ انسانی حقوق کے گروپ نے الزام لگایا ہے کہ اپریل میں ہونے والی جمہوریت نواز پسندوں کی تحریک کو دبانے کے لئے لیفٹینیٹ جنرل رکمنگاد کاتووال نے ظالمانہ طریقہ اختیار کیا تھا۔ گزشتہ پیر کو جنرل پیار جنگ تھاپا کی ڈیوٹی ختم ہونے پر جنرل کاتووال کو قائم مقام چیف کا عہدہ دیا گیا تھا۔ گزشتہ احتجاج میں بیس لوگ مارے گئے تھے جس کے بعد شاہ گینندرا نے حکومت میں براہ راست مداخلت بند کر دی تھی۔ جوڈیشل کمیشن نےجنرل تھاپا اور جنرل کاتووال کی جواب طلبی کی ہے۔ مگر دونوں نے ہی الزامات سے انکار کیا ہے۔ کمیشن نے ابھی اپنی رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔ تقریباً دو درجن سیاسی کارکنوں نے جنرل کاتووال پر الزام لگایا ہے کہ جب وہ نیپال آرمی کے ریجنل ہیڈ کوارٹر کے چیف تھے تو انھوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تھی۔ فوج کے سربراہ ہونے کے ناطے جنرل تھاپا ایک ماہ کی چھٹی پر ہیں۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ چھٹی نیپال کی ایک روایت ہے۔ شاہ گینندرا کے حکومت چھوڑنے سے نیپال میں اب مخلوط پارٹیوں کی حکومت قائم ہے۔ | اسی بارے میں نیپال: طاقت کی شراکت کا معاہدہ17 June, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کے وفاداروں سے تفتیش24 June, 2006 | آس پاس اب اور جنگ نہیں: نیپال باغی 01 July, 2006 | آس پاس نیپال: بادشاہت قائم تو مذاکرات ختم08 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||