BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 October, 2006, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال امن مذاکرات کا اگلا دور شروع
ماؤ نواز باغی
ماؤ نواز باغی ہتھیار چھوڑنے پر تیار نہیں
نیپال کی حکومت اور ماؤ نواز باغیوں کےمابین امن قائم کرنے کے لیئے باضابطہ مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ہے۔

دونوں پارٹیاں نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں واقع نیپالی وزیراعظم کی رہائش پر اکٹھی ہوئی ہیں۔ اپریل میں فائر بندی کے بعد سے بات چیت کا یہ دوسرا راؤنڈ ہے۔

ماؤ نواز باغیوں کا مطالبہ ہے کہ بادشاہت کا خاتمہ کیا جائے۔ باغیوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں وہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نیپال کے وزیراعظم جی پی کوئرالہ اور ماؤ نواز رہنما پرچندا دونوں گروپوں کے درمیان خلیج پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ چاہے یہ مذاکرات کتنا ہی طول کیوں نہ پکڑ جائیں وہ ان کا حل نکال کر رہیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکومت یقیناً یہ چاہتی ہے کہ مذاکرات ناکام نہ ہوں مگر دونوں پارٹیوں کے اختلافات کو ختم کرنا آسان نہیں۔

حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں کو عبوری حکومت میں شامل ہونے سے پہلے غیر مسلح ہونا پڑے گا۔ جبکہ ماؤ نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لئیے فوج کی طرح کیمپوں میں محدود رہنا اور مسلح ہونا بہت ضروری ہے۔

بادشاہت کے مستقبل کا فیصلہ بھی ابھی تک کھٹائی ہے کیونکہ ماؤ نواز باغی اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ بادشاہت کے فیصلہ کے لیئے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ وزیراعظم کوئرالہ کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ بادشاہت اس وقت تک رہنی چاہیئے جب تک اگلے سال نئی منتخب کردہ اسمبلی اس کے بارے میں فیصلہ نہ کر دے۔

جون میں کیئے گئے ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت میں باغیوں کو بھی شامل کیا جانا تھا مگر اس فیصلے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا اور باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومت امن کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔

ماؤ نواز باغی خود اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کیونکہ وہ ابھی تک پر تشدد کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں باغی انقلاب لانے کی بات کر رہے ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
نیپال: آرمی چیف مسترد
16 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد