صدام حسین آبائی قصبے میں سپردِ خاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق صدر صدام حسین کو اتوار کی صبح ان کے آبائی قصبے عوجہ میں دفنا دیا گیا ہے۔ صدام کی تدفین کے سلسلے میں ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ انہیں بغداد سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر سنّی اکثریتی علاقے رمادی میں سپردِ خاک کیا جائےگا۔ تاہم بعد ازاں ان کی تدفین تکریت کے علاقے عوجہ میں صدام کے آبائی قبرستان میں عمل میں آئی۔ تکریت میں موجود بی بی سی عربی سروس کے نمائندے کے مطابق تدفین میں صدام کے چند قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی۔ صدام کو عوجہ کے جس قبرستان میں دفنایا گیا ہے وہاں ان کے بیٹوں اودے اور قصے کے علاوہ ان کی والدہ کی قبر بھی موجود ہے۔ صدام کے دونوں بیٹے عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ عوجہ ہی وہ قصبہ ہے جہاں انہتر برس قبل صدام حسین کا جنم ہوا تھا۔ صدام کے ایک رشتہ دار موسٰی فراج نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا’صدام کو مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے عوجہ کے وسطی علاقے میں اس جگہ دفنا دیا گیا جو ان کے دورِ اقتدار میں تعمیر کی گئی تھی‘۔ صدام حسین کو ہفتے کی صبح بغداد میں پھانسی دی گئی تھی اور بعد ازاں ان کی لاش کو بذریعہ ہیلی کاپٹر تکریت پہنچایا گیا تھا جہاں مقامی حکام اور صدام حسین کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی لاش وصول کی تھی۔ ادھر سعودی عرب اور مصر نے صدام حسین کو عید کے روز پھانسی دیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ ایران نے کہا ہے اس سے عراق کو فائدہ ہوگا۔ لیبیا نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدام حسین کو ہفتے کی صبح عراق کے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے پھانسی دی گئی اور ان کی پھانسی کی ویڈیو کے کچھ حصے عراقی ٹی وی پر دکھائے گئے جنہیں دنیا بھر کے میڈیا اداروں نے نشر کیا۔ ویڈیو میں صدام حسین کو تختۂ دار کی طرف لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق انہیں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ تاہم صدام حسین نے آخری لمحوں میں پھانسی سے قبل روایتی طور پر پہنایا جانے والا ہُڈ یا نقاب پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ صدام حسین کی پھانسی کے وقت عراقی حکومت کا ایک نمائندہ، سنی مسلمانوں کے ایک عالم اور کیمرے کے عملے کے علاوہ کچھ عراقی موجود تھے۔ صدام حسین کی دو بیٹیاں اردن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے ترجمان کے مطابق دونوں بہنوں نے اپنے والد کے آخری لمحات ٹی وی پر دیکھے اور وہ انتہائی دکھی تھیں۔ ’لیکن انہیں اس بات پر فخر تھا کہ صدام حسین نے تختہ دار پر بڑی دلیری اور استقامت کے ساتھ جلادوں کا سامنا کیا۔‘
ان کی ایک صاحبزادی نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ اپنے والد کی لاش کو یمن میں امانتاً دفن کرنا چاہتی ہیں۔ہفتے کی رات ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان کی لاش تدفین کے لیے تکریت بھیجی جا رہی ہے۔ صدام حسین کی پھانسی سے کچھ گھنٹے قبل ان کے آبائی قصبے تکریت میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔ خود عراق میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی تھی اور امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو کسی بھی صورتِ حال حتیٰ کے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہنے کی ہدایت کر دی تھی۔ عراق میں صدام حسین کی پھانسی کی خبر پر شیعہ آبادی والے شہر صدر میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا لیکن تکریت میں ان کی پھانسی کی خبر کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ سمارہ اور رمادی سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ تاہم عراق کے مختلف شہروں میں دن بھر تشدد کے واقعات بھی ہوتے رہے جن میں 68 افراد ہلاک ہوگئے۔
عراق کی قومی سلامتی کے مشیر موافق الرباعی نے جنہوں نے صدام حسین کو پھانسی چڑھتے دیکھا، بی بی سی کو بتایا: ’صدام حسین کو ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا تھا۔ ان کے ہاتھ میں قرآن مجید تھا اور وہ شکست خوردہ دکھائی دے رہے تھے اور انہوں نے کچھ نعرے بھی لگائے۔‘ سابق عراقی صدر کی موت کے وارنٹ پر عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی نے دستخط کیے۔ پھانسی کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا: ’صدام حسین کے خاتمے سے عراقی تاریخ کا ایک تاریک باب بند ہوگیا ہے۔‘ دنیا کے کئی ممالک نے صدام حسین کی پھانسی پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین، روس، لیبیا، اور فلسطین میں حماس کی حکومت نے پھانسی کی مخالفت کی ہے۔
تاہم امریکہ، ایران، کویت، اسرائیل اور جاپان سمیت کئی ممالک نے عراق کے معزول صدر کو پھانسی دیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ لیبیا نے صدام حسین کی پھانسی پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدام حسین کو انیس سو بیاسی میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کو دجیل میں ہلاک کرنے کے حکم کے الزام میں پانچ نومبر کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کے خلاف ان کی اپیل بھی مسترد ہوگئی تھی۔ عراقیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے الخادمیہ کے نواح میں انٹیلی جینس ادارے کی اس عمارت میں صدام حسین کو پھانسی چڑھتے دیکھا جہاں عموماً سزائے موت کے مجرم اپنے انجام کو پہنچائے جاتے ہیں۔ امریکی اس مقام کو کیمپ جسٹس کہتے ہیں۔
صدام حسین کو پھانسی گھاٹ پر لے جانے والوں اور خود جلاد نے اپنے منہہ نقابوں سے چھپا رکھے تھے۔ سابق عراقی صدر نے قیدیوں کے لباس کی بجائے سفید قمیض اور گہرے رنگ کا اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔ اگرچہ انہوں نے ہُڈ پہننے سے انکار کر دیا تھا تاہم جلاد نے پھندا ڈالنے سے قبل صدام حسین کی گردن میں ایک چھوٹی سے پٹی ڈالی۔ تاہم صدام حسین کی موت کے لمحات کو وڈیو میں نہیں دکھایا گیا اگرچہ سفید کفن میں لپٹی ہوئی ان کی لاش کی تصاویر عالمی نشریاتی اداروں پر دکھائی گئیں۔ عراق کے سرکاری ٹیلی وژن عراقیہ نے صدام حسین کے پھانسی کے خبر دیتے ہوئے اعلان کیا: ’مجرم صدام حسین کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘29 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس قذافی کی بیٹی، صدام کا دفاع 03 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||