سیاسی قتل پر لبنان سوگوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں وزیرِصنعت اور اہم سیاسی رہنما پیئر الجمیل کے قتل پر تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔ پیئرالجمیل کے آبائی قصبے بکفیا میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہے اور ان کی پارٹی کے کارکنوں نے بیار کے تابوت کو پارٹی کے جھنڈے سے لپیٹ رکھا ہے۔ خیال ہے کہ الجمیل کی تدفین جمعرات کو بیروت میں ہوگی۔ وہ اہم شام مخالف رہنما سمجھے جاتے تھے اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قتل میں شام ملوث ہے تاہم دمشق نے اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ دروظ پارٹی کے شام مخالف رہنما ولید جنبلاط نے خبردار کیا ہے کہ لبنانی کابینہ میں شام کی مخالف کم کرنے کے لیے ہو سکتا ہے کہ شام مخالف دیگر وزراء اور رکن پارلیمان کو قتل کردیا جائے۔ دو سال کے عرصے میں الجمیل پانچویں شام مخالف رہنما ہیں جنہیں قتل کیا گیا ہے۔اس سے قبل شام مخالف اتحاد کے سربراہ رفیق حریری کو قتل کیا گیا تھا اور ان کے قتل کے لیے شام کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا لیکن شام نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
34 سالہ وزیرِ صنعت اور میرو نائٹ کرسچن رہنما پيئر الجميل کو منگل کو بیروت میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ شام مخالف اتحاد کے سربراہ سعد حریری نے ان کا قتل کا الزام شام پر عائد کیا ہے جبکہ شام نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے پیئر الجمیل کے قتل کی مذ مت کی گئی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ملک میں استحکامی صورت حال کو خراب کرنے کی ان کوششوں پر سخت تنقید کی ہے۔ الجمیل پر حملے کے بعد بیروت شہر کی گلیوں میں فوج پھیل گئی۔ اشرفیہ کے اطراف میں واقع عیسائی اکثریتی علاقوں میں مشتعل ہجوم نے ٹائر جلائے۔ شام مخالف مظاہرین نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے مشرقی لبنان میں عیسائی علاقے زحلے کی گلیوں کو بھی بلاک کردیا۔ مشرق وسطی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پیئر الجمیل کے قتل سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لبنان میں اُس وقت فرقہ واریت کی آگ بڑھکائی جا رہی ہے جب ملک سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے لبنان کی کابینہ نے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے ٹربیونل کے قیام کی توثیق کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف شام نواز چھ وزیروں نے استعفی دے دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ فروری 2005 میں ایک بم حملے میں رفیق حریری کے قتل میں شام ملوث ہے۔ شام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
منگل کو سلامتی کونسل نے اس ضمن میں تحقیقات کے لیے ٹربیونل کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ اب لبنانی حکومت سے سرکاری سطح پر اس کی منظوری کے لیے کہا جائے گا۔ پیئر الجمیل سابق صدر امین کے بیٹے اور فلانگ پارٹی کے رکن تھے۔ بیار کے والد اور سابق صدر امین جمیل نے ہسپتال کے باہر مشتعل حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو ’شہید‘ کہا اور حامیوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم جوابی کارروائی اور بدلہ نہیں چاہتے ہیں‘۔ امریکی صدر جارج بش نے اس معاملے میں ملوث افراد اور عناصر کے خلاف مکمل تحقیقات پر زور دیا ہے۔
لبنان میں فواد سینیورا کی حکومت کو صدر بش کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ بش نے شام اور ایران پر لبنان میں انتشار اور تشدد کو فروغ دینے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ پیئر الجمیل کی ہلاکت ہر لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا کا کہنا تھا ’لبنان ان ہلاکتوں سے ڈرنے والا نہیں۔ ہم مجرموں کو اپنی قسمت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے الجمیل کے قتل کو سراسر ’غیر منصفانہ‘ جبکہ شام نے اسے ’بھیانک جرم‘ قرار دیا ہے۔ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے بھی اس قتل کی مذمت کی گئی ہے۔ تہران کے مطابق یہ قتل’ لبنان دشمن عناصر‘ کی کارروائی ہے جبکہ حزب اللہ نے معاملے کی فوری تحقیقات کی بات کی ہے۔ |
اسی بارے میں لبنان: رفیق حریری ٹریبونل کی توثیق14 November, 2006 | آس پاس شام مخالف لبنانی رہنما ہلاک21 November, 2006 | آس پاس لبنان: بیار الجمیل کے قتل پر سوگ22 November, 2006 | آس پاس لبنان کیلیئے اقوام متحدہ کی اپیل25 July, 2006 | آس پاس ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||