لبنان: بموں کی کھیپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ جنگ کے بعد لبنان میں ایک بڑا مسئلہ وہاں گرے اس بارود کا ہے جو پھٹا نہیں اور اب آبادی کے لیئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک برطانوی تنظیم ’مائنز اویرنیس گروپ‘ یعنی ایم اے جی نے مقامی آبادی کے ساتھ کام کرنے کی لیئے اپنی ٹیم بھیجی ہے۔ اس ٹیم میں عراقی کرد شامل ہیں جو جنوبی لبنان میں لوگوں کو اس بارود سے نمٹنے کے طریقے سکھا رہا ہے۔ ایم اے جی کے ٹیکنکل آپریشنز کے منیجر نِک گیسٹ کا کہنا ہے کہ اس بارود سے روزانے لاکھوں شہریوں کو جان کا خطرہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد سب سے اہم چیز ان بموں کو ہٹانا ہے اس سے پہلے کہ ان سے کوئی جانی نقصان ہو۔ ’ہم مقامی آبادی کو اس بارے میں تربیت دے رہے ہیں کیونکہ باہر سے لوگوں کا پہلے انتخاب کرنا، پھر ان کو ٹریننگ دینا اور پھر ان کو علاقے میں لانے میں بہت دیر لگ جاتی ہے اور یہ کام جلد از جلد ہونا چاہیے۔‘ ایم اے جی نے اس طرح کا پروگرام پہلی مرتبہ کوسوو میں جنگ کے بعد شروع کیا تھا جب انہوں نے کیمبوڈیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو کوسوو میں لوگوں کی تربیت کے لیئے بھیجا تھا۔ اب انہوں نے انیس عراقیوں کو جنوبی لبنان بھیجا ہے۔ اس گروپ کے افراد سے میری ملاقات جنوب میں واقع یوہمر کے مالٹوں کے باغات کے قریب ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ’عراق ہو، کیمبوڈیا یا لبنان، جہاں بھی جنگ ہو وہاں پر شہریوں کو درکار مسائل اور خطرات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اس لئیے ہم ان کی مدد کرنے آئے ہیں۔‘ چالیس سالہ عراقی سلام محمد نے بتایا کہ ’ہم نے عراق میں سنہ 2003 کی جنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہنگامی صورت میں کس طرح سے کام کرنا ہے، بم کو کس طرح ہٹانا ہے، اس کا دھماکہ محفوظ طریقے سے کس طرح کرنا ہے۔‘ ’جنگ کے بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹ کر آتے ہیں تو ان کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے گاؤں میں بم پڑے ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ہماری عراقی ٹیم اب لبنانیوں کو اس سلسلے میں تربیت دے رہی ہے، تاکہ یہ لوگ اپنی حفاظت کر سکیں۔‘ جنوبی لبنان میں بکھرے ایسے بموں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں لیکن خیال ہے کہ یہ تعداد لاکھوں تک ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بموں کو ہٹانے کے عمل میں دو سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس نے حزب اللہ کو نشانہ بنایا تھا لبنان کے شہریوں کو نہیں۔ لیکن اس علاقے میں سڑک کنارے بھی یہ بم پڑے ہیں اور باغات اور کھیتوں میں بھی۔ یہ زیادہ تر چھوٹے بم ہیں اور اکثر ان کی موجودگی کا بھی تب ہی پتہ چلتا ہے جب یہ پھٹ جاتے ہیں۔ اس دھماکہ خیز مواد کو صاف کرنے والے ماہرین کے لیئے صورتحال انتہائی تشویشناک معلوم ہوتی ہے۔ جنوبی لبنان میں تقریباً ستر فتصد خاندان زراعات پر انحصار کرتے ہیں اور اب وہ جلد از جلد واپس کام شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے کھیت اور باغات میں جگہ جگہ یہ بم پڑے ہیں۔ ان لوگوں کی روزگار کی راہ کی رکاوٹت جگہ جگہ بکھرے یہ بم ہیں۔ یہاں جنگ کے بعد سے ایسے بموں کے پھٹنے سے 18 لوگ ہلاک جبکہ 80 زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک چوتھائی بچے تھے۔ کچھ روز پہلے ایک بچہ درخت پر چڑھ کر سیب توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سیب کو گرانے کے لیئے جب اس نے شاخیں زور سے ہلایئں تو اس درخت میں اٹکا ہوا بم اس کے سر پر گرا اور پھٹ گیا۔ اس علاقے کے ہسپتال میں میری رضوان غندور سے ملاقات ہوئی جو اپنے گھر کے باغ سے ایک چھوٹے کلسٹر بم ہٹانے کی کوشش میں بری طرح زخمی ہوئے۔ اس کوشش میں وہ ایک آنکھ اور ایک ہاتھ کی کئی انگلیوں سے محروم ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف اپنے بچوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہمارے پورے گاؤں میں ہر طرف ایسے بم بکھرے پڑے ہیں۔ اس سے اسرائیلیوں کے لیئے ہماری نفرت بڑھتی ہے۔‘ دنیا کے دوسرے جنگ زدہ علاقوں کی طرح اب جنوبی لبنان میں بھی جنگ کے خاتمے کے بعد شہریوں کو جنگ کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ | اسی بارے میں ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس جنگی جرائم ہو رہے ہیں: اقوامِ متحدہ20 July, 2006 | آس پاس پائیدارامن کےراستے کھلیں گے: عنان28 August, 2006 | آس پاس لبنان: ’50 ملین ڈالر کی امداد درکار‘ 31 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||