’ہر چلتی گاڑی کو نشانہ بنائیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر جنوبی لبنان میں امدادی قافلہ پہنچانے کی کوشش مزید ایک دن کے لیئے ترک کر دی ہے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقے میں اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کرے گا۔ طائر کے علاقے میں ہوائی جہازوں سےگرائے جانے والے پیغامات میں اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے جنوب، یعنی لبنانی سرحد کے تیس کلومیٹر اندر تک، حرکت کرتی ہوئی گاڑیوں کو نشانہ بنائے گا۔ ادھر لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں سیدون کے نزدیکی قصبے غازیہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم چھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب پہلے ہونے والے حملوں میں مرنے والے افراد کو دفنایا جا رہا تھا۔ بیروت میں اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات ہی قافلوں کی روانگی میں تعطل کی وجہ بنے ہیں۔ حکام کے مطابق ’بہت شدید بمباری ہو رہی ہے ، حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں اور حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم روزانہ دو فاقلے بھیجنے میں بھی ناکام ہیں جبکہ ضرورت کم از کم چھ فاقلوں کی ہے‘۔
عرب لیگ کا ایک تین رکنی وقت سلامتی کونسل کے ارکان سے مجوزہ قرارداد امن میں ترامیم کی بابت بات چیت کر رہا ہے۔ لبنان سمیت عرب ممالک قرارداد میں اسرائیلی فوج کے انخلاء سے متعلق شق شامل کروانا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ انہیں قرارداد کے متن میں حزب اللہ کے تمام حملے ترک کر دینے جبکہ اسرائیل کے صرف پہلے حملہ نہ کرنے کی شرط پر بھی اعتراض ہے۔ منگل کی صبح اسرائیل نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ میں جاری سفارتی کوششیں اس کے فوجی مقاصد پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ بیروت کے جنوبی حصے پر منگل کی صبح بھی حملے ہوئے جبکہ پیر کی رات بیروت کے اس علاقے پر حملہ ہوا جس کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے فوری اہداف کے زون سے باہر ہے۔ اس حملے میں ایک عمارت منہدم ہو جانے کے نتیجے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ شیحہ نامی یہ علاقہ اس جگہ واقع ہے جہاں سے عیسائی اکثریتی مشرقی بیروت کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیلی طیاروں نے لبنان میں بیاسی اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اس دوران حزب اللہ نے اسرائیل پر ایک سو چالیس راکٹ پھینکے۔ جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر لڑائی ہوئی ہے۔ اسرائیلی ذرائع نے بنت جبیل میں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت جبکہ حزب اللہ کے پانچ چھاپہ ماروں کو پکڑنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ جنوبی علاقے کے ایک گاؤں حولا میں پیر کے اسرائیلی حملے میں پانچ شہری ہلاک ہوئے جبکہ متعدد کو ملبے سے نکال لیا گیا۔ اس سے پہلے لبنانی وزیر اعظم فواد سینیورا نے عرب لیگ کے بھرے اجلاس میں بتایا تھا کہ حولا میں چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے لبنان میں انسانی صورتحال کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں اسرائیل اور حزب اللہ دونوں پر شہری اہداف کو نشانہ بنانے پر نکتہ چینی کی ہے۔
رپورٹ میں تیس جولائی کو قانا کے گاؤں پر بمباری کا بطور خاص حوالہ دیا گیا ہے جس میں پناہگاہ میں موجود اٹھائیس عورتیں، بچے اور مرد ہلاک ہوئے تھے۔کوفی عنان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات مروجہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے قانا کے واقعہ کی مزید تحقیقات پر زور دیا۔ لبنان کی حکومت نے جنوبی علاقے میں جنگ بندی کی صورت میں پندرہ ہزار لبنانی فوج تعینات کرنے کا جو منصوبہ پیش کیا ہے اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس کا محتاط خیر مقدم کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں جنگ بند کر کے اپنی موجودہ پوزیشن اقوام متحدہ کے علاقے میں موجود امن دستوں کے حوالے کر دے اور پھر لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کے دستے اس علاقے کا مشترکہ کنٹرول سنبھال لیں۔ لبنان کا یہ منصوبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل علاقے میں لڑائی کی روک تھام کے لیئے فرانسیسی امریکی مشترکہ امن منصوبے پر غور کر رہی ہے اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اپنے بیان میں اصرار کیا ہے کہ موجودہ قرارداد کا مسودہ حلات کے تناظر میں ایک مناسب مسودہ ہے۔ |
اسی بارے میں عرب لیگ کا اجلاس، اسرائیلی حملے جاری07 August, 2006 | آس پاس لبنان: تازہ اسرائیلی حملے، شہری ہلاک07 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ: ’40 افراد ہلاک‘07 August, 2006 | آس پاس فوجیوں سمیت 15 اسرائیلی ہلاک06 August, 2006 | آس پاس لبنان:اسرائیلی فوج کی حکمت عملی 06 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ پسپا کیا ہے: حزب اللہ05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے میں 26 ہلاک 04 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||