BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 01:42 GMT 06:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیروت پر پھر بمباری شروع
اسرائیلی فوجی
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے
اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ اس کی فضائیہ نے کئی روز کی خاموشی کے بعد جنوبی بیروت پر بھی بمباری کی ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز حزب اللہ نے اسرائیل پر دو سو بیس راکٹ پھینکے تھے جو اب تک اس کا اسرائیل پر سب سے بڑا حملہ ہے۔

جنوبی لبنان میں لڑائی میں چار اسرائیلی فوجی زخمی اور ایک ہلاک بھی ہوا ہے۔ اسرائیل کی پیدل فوج کے دستے مختلف دیہات میں کارروائی کر رہے ہیں جہاں ان کا حزب اللہ سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اسرائیلی حکومت کہتی آئی ہے کہ لبنان میں اس کی کارروائی کا مقصد حزب اللہ کے اسرائیلی شہریوں پر حملے روکنا ہے لیکن یہ حملے اب بھی جاری ہیں اور بدھ کے روز ہی اسرائیل پر دو سو سے زیادہ راکٹ پھینکے گئے۔

اسرائیل کو لبنان میں کارروائی کے لیئے اپنے عوام کی بھاری حمایت حاصل ہے لیکن اب کچھ مبصرین نے اسرائیل کی فوجی حکمت عملی کے بارے میں سوالات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں کہ آیا اس سے حزب اللہ کو ختم کرنے کا مقصد پورا کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر ایمائر جونز پیری نے کہا ہے کہ لبنان میں لڑائی بند کروانے کے بارے میں قرار داد پر عنقریب اتفاق رائے ہو جائے گا۔ واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قرار داد کے مسودے کو چند روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔ بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار کے مطابق پہلی قرارداد فوری فائر بندی کے بارے میں ہوگی جس کے بعد دوسری قرارداد مستقل حل کے بارے میں ہوگی۔

ملائشیا میں جمعرات کو اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس ہو رہا جس میں وہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ ملائشیا کی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے اس اجلاس میں لبنان میں غیر مشروط فائربندی اور جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کرے گی۔

بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ اسرائیل لبنان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے تاہم یہ اسرائیل پر راکٹ حملوں کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ہے۔

رب سناتین کے مقام پر اسرائیلی ٹینک ناکارہ کرنے کا دعوٰی کیا گیا ہے

ایہود اولمرت کے اس بیان کے بعد کہ علاقے میں بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی تک اسرائیلی فوج حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رکھے گی حزب اللہ نے کسی ایک دن میں اسرائیلی شہروں پر سب سے زیادہ راکٹ فائر کیئے ہیں۔

حیفہ کے نزدیک نہاریہ میں ایک اسرائیلی گھر حزب اللہ کے راکٹ حملے کا نشانہ بنا جس سے ایک شہری ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے۔

حزب اللہ نے پہلی مرتبہ خیبر ون نامی میزائل بھی فائر کیا جو اسرائیلی سرحد کے اندر ستر کلومٹیر کے فاصلے پر واقع بیت شین کے مقام پرگرا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے پھینکے جانے والے راکٹ اور میزائل مغربی کنارے کے علاقے تک پہنچے۔

گزشتہ ہفتے حزب اللہ کا ایک راکٹ اسرائیل کے اندر پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر گرا تھا۔

لبنان کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 750 لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انیس شہریوں سمیت چوّن اسرائیلی حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

حسن نصر اللہشیخ حسن نصر اللہ
معاملہ فہم سیاسی مدبر یا جنگجو رہنما
امداد میں تعطل
محفوظ رستے فراہم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی
کب کیا ہوا؟
لبنان اسرائیل جنگ میں کب کیا ہوا؟
اسی بارے میں
بنت جبیل پر کیا بیتی
01 August, 2006 | آس پاس
اسرائیلی فوج بعلبک میں
01 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد