BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 August, 2006, 06:55 GMT 11:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج اور باغیوں کی لڑائی میں شدت
سری لنکا
سری لنکا میں جنگ بندی کا قیام مشکل نظر آتا ہے
سری لنکا کے شمال مشرقی ضلعے ٹرنکومالی میں فوج اور تامل باغیوں کے درمیان لڑائی دیگر علاقوں تک پھیل گئی ہے۔

ٹرنکومالی کے قصبے متر کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ باغیوں نے مرکز کے اہم علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس میں جیٹی بھی شامل ہے۔ متر قصبے میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے جنہوں نے مساجد اور سکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

لڑائی میں شدت کے باوجود فریقین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔

بدھ کی صبح باغیوں نے تازہ کارروائی میں ٹرنکومالی کی بندرگاہ کے نزدیک فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔

باغیوں نے بدھ کو فوج کے ٹھکانوں پر دستی بم پھینکے ہیں۔ ایک ہی روز قبل باغیوں نے ایک بحری جہاز پر حملہ کیا تھا جس میں سری لنکن فوجی سوار تھے۔ یہ بحری جہاز ٹرنکومالی کی مشرقی بندرگاہ جا رہا تھا۔

باغیوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق تازہ حملے میں چار فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ٹرنکومالی کے علاقے میں فوج باقاعدہ زمینی فوجی کارروائی کررہی ہے۔ 2002 کی جنگ بندی کے بعد سے یہ اس نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔ شمال مشرقی سری لنکا میں اس کارروائی کا مقصد متنازعہ پانی کی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھالنا ہے۔

ایک مقامی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جھڑپو ںمیں ایک شہری ہلاک جبکہ تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری طور پر حکومت اور باغیوں کے بیچ جنگ بندی اب بھی لاگو ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کے مطابق سیز فائر کا قیام مشکل میں نظر آتا ہے۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی جاری رہے گی اور انہیں نہیں معلوم کہ پانی کی گزرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے میں انہیں کتنا وقت لگے گا۔

تامل باغیوں کے خلاف یہ زمینی کارروائی کا چوتھا دن ہے اور اس کے لیئے 3000 فوجی تعینات کیئے گئے ہیں۔

اس کارروائی کے دوران 23 فوجی اور تین باغی ہلاک ہوچکےہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ باغیوں نے پانی کی گزرگاہ کے دروازے بند کردیئے ہیں جس سے سینکڑوں کسانوں کی اراضی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوجی بارودی سرنگوں سے لیس زمین پر بہت احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ٹرنکومالی میں درحقیقت کوئی فائر بندی نہیں ہے اور حکومت بضد ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوجی طاقت سے حل کریں گے۔

دوسری جانب تاملوں نے حکومتی اقدام کو ’جنگ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2002 کی جنگ بندی اب بے اثر ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد