فوج اور باغیوں کی لڑائی میں شدت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے شمال مشرقی ضلعے ٹرنکومالی میں فوج اور تامل باغیوں کے درمیان لڑائی دیگر علاقوں تک پھیل گئی ہے۔ ٹرنکومالی کے قصبے متر کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ باغیوں نے مرکز کے اہم علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس میں جیٹی بھی شامل ہے۔ متر قصبے میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے جنہوں نے مساجد اور سکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ لڑائی میں شدت کے باوجود فریقین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔ بدھ کی صبح باغیوں نے تازہ کارروائی میں ٹرنکومالی کی بندرگاہ کے نزدیک فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ باغیوں نے بدھ کو فوج کے ٹھکانوں پر دستی بم پھینکے ہیں۔ ایک ہی روز قبل باغیوں نے ایک بحری جہاز پر حملہ کیا تھا جس میں سری لنکن فوجی سوار تھے۔ یہ بحری جہاز ٹرنکومالی کی مشرقی بندرگاہ جا رہا تھا۔ باغیوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق تازہ حملے میں چار فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ٹرنکومالی کے علاقے میں فوج باقاعدہ زمینی فوجی کارروائی کررہی ہے۔ 2002 کی جنگ بندی کے بعد سے یہ اس نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔ شمال مشرقی سری لنکا میں اس کارروائی کا مقصد متنازعہ پانی کی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھالنا ہے۔ ایک مقامی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جھڑپو ںمیں ایک شہری ہلاک جبکہ تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری طور پر حکومت اور باغیوں کے بیچ جنگ بندی اب بھی لاگو ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کے مطابق سیز فائر کا قیام مشکل میں نظر آتا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی جاری رہے گی اور انہیں نہیں معلوم کہ پانی کی گزرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے میں انہیں کتنا وقت لگے گا۔ تامل باغیوں کے خلاف یہ زمینی کارروائی کا چوتھا دن ہے اور اس کے لیئے 3000 فوجی تعینات کیئے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران 23 فوجی اور تین باغی ہلاک ہوچکےہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ باغیوں نے پانی کی گزرگاہ کے دروازے بند کردیئے ہیں جس سے سینکڑوں کسانوں کی اراضی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوجی بارودی سرنگوں سے لیس زمین پر بہت احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرنکومالی میں درحقیقت کوئی فائر بندی نہیں ہے اور حکومت بضد ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوجی طاقت سے حل کریں گے۔ دوسری جانب تاملوں نے حکومتی اقدام کو ’جنگ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2002 کی جنگ بندی اب بے اثر ہوچکی ہے۔ | اسی بارے میں ’حملہ تامل ٹائیگرز نے کروایا‘25 April, 2006 | آس پاس سری لنکا:دھماکہ اور فساد 14 ہلاک12 April, 2006 | آس پاس سری لنکا: خوف کے بڑھتے سائے21 January, 2006 | آس پاس سری لنکا: بحریہ کے 15 اہلکار ہلاک07 January, 2006 | آس پاس سری لنکا: فوجیوں پر باغیوں کاحملہ27 December, 2005 | آس پاس سری لنکا: تامل نواز رہنما ہلاک25 December, 2005 | آس پاس سری لنکا، امن کیلیے کوششیں24 December, 2005 | آس پاس سری لنکا دھماکہ، 13 فوجی ہلاک23 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||