ریاض: سات مشتبہ دہشتگرد فرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق ایک جیل سے القاعدہ کے سات مشتبہ دہشت گرد فرار ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب کے ٹیلی ویژن کے مطابق فرار ہونے والے ان افراد پر القاعدہ سے تعلق کا شبہ تھا اور ان میں سے چھ سعودی جب کے ایک یمنی شہری تھا۔ سعودی عرب کو اس وقت ایسی متشدد مہم کا سامنا ہے جو مبینہ طور پر سعودی عرب میں امریکہ نواز بادشاہت کے خاتمے کے لیئے مبینہ طور پر القاعدہ کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اس بارے میں جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ دہشت گرد ریاض میں واقع الملز نامی جیل سے فرار ہوئے ہیں ان لوگوں کو ’داخلی سلامتی کو درپیش خطرناک‘ ہونے کی بنا پر جیل میں رکھا گیا تھا۔ حکام کی جانب سے ’داخلی سلامتی کے لیئے خطرناک‘ ہونے کی اصطلاح ان لوگوں کے لیئے استعمال کی جاتی ہے جن پر دہشت گردی کا شبہ ہوتا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مفرور ہونے والے افراد مذہبی شدت پسند تھے اور انہیں گزشتہ کئی سال کے دوران پیش آنے والے الگ الگ واقعات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ترجمان منصور الترکی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ شدت پسند تھے اور تکفیری تصورات پر یقین رکھتے تھے‘۔ |
اسی بارے میں پانچ ’القاعدہ‘ شدت پسند گرفتار19 April, 2006 | آس پاس القاعدہ کے 40 مشتبہ ارکان گرفتار30 March, 2006 | آس پاس ریاض میں شدت پسند ہلاک27 February, 2006 | آس پاس ابقیق آئل ریفائنری: ’خودکش حملہ‘24 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||