پانچ ’القاعدہ‘ شدت پسند گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام نے دنیا میں تیل صاف کرنے والے سب سے بڑے کارخانے کو بم سے اڑانے کے منصوبے میں مبینہ طور پر ملوث مزید پانچ شدت پسندوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری ہونے والے وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق یہ شدت پسند فروری میں ابقائق میں تیل کے کارخانے پر حملے کے منصوبے میں ملوث تھے۔ اس موقع پر دکھائی جانے والی ایک ٹیپ میں مبینہ شدت پسندوں کو بم حملے میں استعمال کی جانے والی کاروں کو تیار کرتے دکھایا گیا ہے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق وہ ٹیپ اور ڈیڑھ ٹن دھماکہ خیر مواد دارالحکومت ریاض سے باہر واقع ایک وئیرہاؤس سے ملے ہیں۔ مارچ کے آخر میں سعودی حکام نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 40 شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے 8 ابقائق پر حملے کے مبصوبے میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ 24 فروری کو ابقائق پر ہونے والے ناکام بم حملے میں سکیورٹی اہلکاروں نے بارود سے لدی دو کاروں کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب اس کے مرکزی دروازوں تک پہنچنے کی کشش کر رہے تھے۔ اس ناکام حملے کے تین دن بعد ریاض میں سکیورٹی اہلکاروں نے حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث پانچ مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ریاض میں شدت پسند ہلاک27 February, 2006 | آس پاس القاعدہ کے 40 مشتبہ ارکان گرفتار30 March, 2006 | آس پاس سعودیہ: اصلاح پسندوں کو جیل15 May, 2005 | آس پاس سعودی بادشاہ کے لیے بڑا چیلنج06 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||