ریاض میں شدت پسند ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام کے مطابق دارالحکومت ریاض میں پولیس اور مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 5 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ایک اور چھاپے کے دوران ایک شدت پسند کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کے مطابق پیر کی صبح دو مقامات پر ایک ساتھ چھاپے مارے گئے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے پیر کی صبح ریاض کے نواح میں ایک بنگلے کا محاصرہ کرنے کے بعد کارروائی کی جس میں گولیوں اور دستی بموں کا استعمال کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ جھڑپ دوگھنٹے جاری رہی جبکہ دوسرے چھاپے میں ریاض شہر کے ایک دیگر علاقے سے ایک شدت پسند کوگرفتار کیا گیا۔ شدت پسندوں کی جائے پناہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے جس میں خود کار ہتھیار اور دستی بم بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق گرفتار شدہ اور مرنے والے پانچوں شدت پسند ابقیق پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔ میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھا کہ’ ہمارے خیال میں ان چھاپوں میں پکڑے جانے والے اور مرنے والے افراد کا تعلق ابقیق کے واقعہ سے تھا۔جھڑپ ختم ہو چکی ہے اور اب ہم گرفتارشدہ شخص سے تفتیش کریں گے‘۔ عینی شاہدین کے مطابق جھڑپ کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور مارٹر گولے فائر کیے گئے۔ ایک صحافی عدوان الاحمر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’صبح کی نماز کے وقت ہم نے گولیوں کی آواز سنی۔ پھر آسمان روشن ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد دھماکوں کی آواز سنائی دی‘۔ یہ جھڑپ ملک کے مشرق میں واقع ابقیق آئل ریفائنری پر ایک خود کش حملے کے صرف تین روز بعد ہوئی ہے۔ ایک اسلامی شدت پسند ویب سائٹ کے مطابق القاعدہ ابقیق ریفائنری پر ہونے والے حملے کی ذمہ دار تھی۔ اس حملے کے دوران آئل ریفائنری کے محافظین نے گولہ بارود سے لدی دو ایسی گاڑیوں پر فائرنگ کر دی تھی جب انہوں نے کارخانے کے گیٹ سے ٹکرانے کی کوشش کی تھی۔ |
اسی بارے میں ابقیق حملہ: ’القاعدہ کا منصوبہ ہے‘25 February, 2006 | آس پاس ابقیق آئل ریفائنری: ’خودکش حملہ‘24 February, 2006 | آس پاس جدہ: قونصلیٹ پر حملہ، بارہ ہلاک06 December, 2004 | آس پاس سعودی پولیس کے تین اہلکار ہلاک 05 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||