سیاسی قیدیوں کی رہائی کاخیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے سعودی عرب کے نئے بادشاہ عبداللہ کےاس فیصلے کاخیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے ان تمام قیدیوں کو معافی دینے کا اعلان کیا ہےجنہیں ملک میں جمہوری اصلاحات کے مطالبہ کے جرم میں قید کیا گیا تھا۔ ان میں وہ تین دانشوروں بھی شامل ہیں جنہیں حکومت پر تنقید کر نے کے جرم میں نو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ امریکی حکومت کےایک ترجمان ایڈم ایریل کا کہنا ہے کہ ان افراد کی رہائی نئے بادشاہ کی روشن خیالی کو ظاہر کرتی ہے۔ بادشاہ عبداللہ نے حکومت سےاختلاف رائے رکھنے والے افراد کی ٹیم کے ایک اور قید رکن سے بھی معافی مانگی ہے جس نےان مذکورہ افراد کے قید کرنے پر اور اس تمام معاملے میں عدالت کے خاموش رہنے پر تنقید کی تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اس فیصلے سے خوش ہے اور صدر بش کا کہنا ہے کہ سعودی عریبیہ خطے کے رہنما کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ نےسکیورٹی کے خدشے کے پیش نظرسعودی عرب میں دوروز قبل بند کیے گئے اپنے سفارت خانے بھی کھولنے کاحکم دیا ہے۔ شاعر علی الدمائینی، ماہر تعلیم عبداللہ الحامد اور متروک الفالح کومارچ دوہزار چار میں گرفتار کرنے کے بعد قید کر دیا گیا تھا۔ ان افرادا کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ حکمران ملک میں بادشادہت کی بجائے دستوری اقدامات کوترجیج دیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے اپنے سابقہ دورہ سعودی عریبہ میں ان افراد کی گرفتاری کے معاملے کو حکومت کے سامنے اٹھایا تھا۔ امریکہ کے اس خطے میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والےملک سعودی عرب سے بڑے دیرینہ مراسم رہے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت سے اختلاف رکھنے والے گروہ نےجن کا دفتر لندن میں قائم ہے انہوں نے محض ان چند افراد کی رہائی کو کوئی قابل تعریف عمل قرار نہیں دیا ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ سعودی جیلو ں میں چار ہزار سے زائدا فراد قید ہیں۔ بادشاہ عبداللہ نے جیل میں قید کئی لبنانیوں کوبھی رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جنہیں ولی عہد عبداللہ کے قتل کی سازش تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسلامی شدت پسند سعید بن ظہیر جن پر ملک میں تشدد کے مختلف واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے انہیں بھی رہا کر دیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||