امریکی سفارتی مراکز کی بندش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب میں اس کے سفارتی مراکز پیر اور منگل کو بند رہیں گے۔ سفارتی مراکز کی عارضی بندش سے متعلق یہ فیصلہ سعودی عرب میں امریکی عمارات پر شدت پسند حملوں کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کے امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ انتہائی ہوشیار رہیں اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ دوسری طرف سے سعودی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کے پاس فوری طور پر دہشت گرد حملوں سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا کہ امریکہ سعودی عرب میں امریکی اور مغربی اہداف کے خلاف اسلامی شدت پسندوں کی ممکنہ کارروائیوں کے خطرے کے پیش نظر اپنے سفارتی مراکز کی عارضی بندش سے متعلق اعلانات کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی امریکی حکام نے سعودی عرب میں سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر ایک وارننگ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ شدت پسند نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امریکی اعلان کے مطابق ریاض میں امریکہ سفارت خانے کے علاوہ جدہ اور دھران میں اس کے قونصل خانے بھی بند رہیں گے۔ دریں اثنا برطانوی اور سعودی سکیورٹی حکام سعودی عرب میں ہلاک ہونے والے دو القاعدہ شدت پسندوں کے لندن بم حملوں میں ملوث ہونے سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ابھی اس بات کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہے کہ آیا لندن حملوں کے لیے سعودی عرب سے رقوم بھیجی گئی تھی یا القاعدہ کارکنوں نے برطانیہ میں ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔ برطانوی اخبار دی سنڈے ٹیلی گراف نے سعودی عرب میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے مراکش کے دو شہریوں کے لندن بم حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||