شاہ عبداللہ: نرم گو شخصیت کے مالک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہ فہد کے انتقال کے بعد ولی عہد شہزادہ عبداللہ اب باقاعدہ طور پر تخت و تاج سنبھال رہے ہیں۔ لیکن حکومت کی باگ ڈور گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے عملاً انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔ شاہ فہد نے علالت کی وجہ سے تقریباً دس سال پہلے خود کو عوامی زندگی سے الگ کر لیا تھا، اور اس کے بعد سے ولی عہد عبداللہ حکمرانی کا کام کا سنبھالتے تھے۔ لیکن مبصرین کے مطابق تمام اہم معاملات میں حتمی فیصلے شاہ فہد کی ہدایت پر ہی کئے جاتے تھے۔ شاہ عبداللہ شاہ عبدالعزیز السعود کے بیٹے ہیں اور وہ انیس سو تئیس میں ریاض میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر اب تقریباً بیاسی برس ہے۔ سعودی عرب کے ترجمان کی حیثیت سے انہیں دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جس انداز میں انہوں نے بین الاقوامی اور گھریلو مسائل کا سامنا کیا ہے، اس کو کافی سراہا گیا ہے۔ ایک روایتی اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ مکہ معظمہ کے مئیر مقرر کیے گیے۔ انیس سو تریسٹھ میں انہیں ملک کا نائب وزیر دفاع بناکر قومی گارڈ کی کمان سونپ دی گئی۔ قومی گارڈ میں سعود گھرانے کے سب سے وفادار قبائل سے جوان بھرتی کئے جاتے ہیں اور ولی عہد عبداللہ آج تک اس فورس کے کمانڈر ہیں صاف شبہہ سیاسی نظریات ولی عہد عبداللہ اگرچہ مغربی دنیا سے قریبی سیاسی اور اقتصادی مراسم کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن عرب ممالک سے تعلقات کی قیمت پر نہیں۔ اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت کے بھی وہ سخت مخالف رہے ہیں۔ اور شاید دنیا نے ان کا سب سے زیادہ نوٹس سن دو ہزار دو میں اس وقت لیا جب انہو ں نےاس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیش کش کی کہ وہ انیس سو سڑسٹھ کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر واپس چلا جائے۔ مغرب سے وہ کس طرح کے تعلقات چاہتے ہیں، اس کا اندازہ پہلی خلیجی جنگ کےدوران ہوا جب شاہی خاندان کا مغرب حامی حلقہ سعودی عرب میں امریکی افواج کی تعیناتی کے حق میں تھی لیک ولی عہد عبداللہ اس کے حق میں نہیں تھے۔ ولی عہد عبداللہ اگرچہ نرم گو ہیں لیکن اپنی بات کھل کر کہنے سے نہیں چوکتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||