BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 August, 2005, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاہ عبداللہ: نرم گو شخصیت کے مالک
شاہ عبداللہ
شاہ عبداللہ کوبہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے
شاہ فہد کے انتقال کے بعد ولی عہد شہزادہ عبداللہ اب باقاعدہ طور پر تخت و تاج سنبھال رہے ہیں۔ لیکن حکومت کی باگ ڈور گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے عملاً انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔

شاہ فہد نے علالت کی وجہ سے تقریباً دس سال پہلے خود کو عوامی زندگی سے الگ کر لیا تھا، اور اس کے بعد سے ولی عہد عبداللہ حکمرانی کا کام کا سنبھالتے تھے۔

لیکن مبصرین کے مطابق تمام اہم معاملات میں حتمی فیصلے شاہ فہد کی ہدایت پر ہی کئے جاتے تھے۔

شاہ عبداللہ شاہ عبدالعزیز السعود کے بیٹے ہیں اور وہ انیس سو تئیس میں ریاض میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر اب تقریباً بیاسی برس ہے۔ سعودی عرب کے ترجمان کی حیثیت سے انہیں دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جس انداز میں انہوں نے بین الاقوامی اور گھریلو مسائل کا سامنا کیا ہے، اس کو کافی سراہا گیا ہے۔

ایک روایتی اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ مکہ معظمہ کے مئیر مقرر کیے گیے۔ انیس سو تریسٹھ میں انہیں ملک کا نائب وزیر دفاع بناکر قومی گارڈ کی کمان سونپ دی گئی۔ قومی گارڈ میں سعود گھرانے کے سب سے وفادار قبائل سے جوان بھرتی کئے جاتے ہیں اور ولی عہد عبداللہ آج تک اس فورس کے کمانڈر ہیں

صاف شبہہ
انہیں انیس سو بیاسی میں ولی عہد نامزد کیا گیا تھا۔ اس دوران ان کا شمار سعودی عرب کے سب سے با اثر شہزادوں میں ہوتا رہا ۔ ان کی ایمانداری، اور سعودی معاشرے کی سادہ روایات اور جدید دور کی ضرورت کے درمیان ایک توازن قائم رکھنے کے لئے انہوں نے جو کوششیں کی ہیں، ان کی وجہ سے ان کی بہت عزت ہوتی ہے۔

سیاسی نظریات

ولی عہد عبداللہ اگرچہ مغربی دنیا سے قریبی سیاسی اور اقتصادی مراسم کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن عرب ممالک سے تعلقات کی قیمت پر نہیں۔
ماضی میں متعدد مرتبہ انہوں نے عرب ملکوں کے درمیان تنازعات ختم کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ انیس سو چوراسی میں انہوں نے لبنان کے تعلق سے شام کے موقف کی تائید کی اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت کے بھی وہ سخت مخالف رہے ہیں۔ اور شاید دنیا نے ان کا سب سے زیادہ نوٹس سن دو ہزار دو میں اس وقت لیا جب انہو ں نےاس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیش کش کی کہ وہ انیس سو سڑسٹھ کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر واپس چلا جائے۔

مغرب سے وہ کس طرح کے تعلقات چاہتے ہیں، اس کا اندازہ پہلی خلیجی جنگ کےدوران ہوا جب شاہی خاندان کا مغرب حامی حلقہ سعودی عرب میں امریکی افواج کی تعیناتی کے حق میں تھی لیک ولی عہد عبداللہ اس کے حق میں نہیں تھے۔

ولی عہد عبداللہ اگرچہ نرم گو ہیں لیکن اپنی بات کھل کر کہنے سے نہیں چوکتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد