ابقیق حملہ: ’القاعدہ کا منصوبہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں شدت پسندوں کے زیر استعمال ایک ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی آئل فیلڈ پر حملے کے پیچھے القاعدہ کی منصوبہ بندی ہے۔ تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ القاعدہ کی ان کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد کافروں کو اس سرزمین سے نکالنا ہے۔ سعودی عرب کے تیل کے امور کے وزیر علی النعیمی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل صاف کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے کارخانے پر حملے کی ناکام کوشش سے تیل اور گیس کی پیداوار پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ مشرقی ساحلی کارخانے ابقیق پر جمعے کے اس حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دو ڈالر فی بیرل بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ سعودی حکام نے اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ حملہ آوروں کی دو کاریں دھماکے والے مادے سے پھٹ گئی تھیں لیکن کارخانے کے اندر کوئی نقصان نہیں ہوا۔ گاڑیوں نے جب کارخانے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پہرے داروں نے انہیں للکارا اور اطلاعات کے مطابق فائرنگ شروع ہو گئی جس میں دو حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ سعودی حکام کے مطابق پہرے داروں کی فائرنگ سے ایک گاڑی میں پڑا مواد میں آگ لگ گئی جس سے گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی اور اس میں موجود افراد ہلاک ہو گئے۔ ان کے ساتھ ساتھ دو پہرے دار ہلاک اور دو زخمی بھی ہوئے۔
سعودی وزیر نے کہا ہے کہ دھماکے کی وجہ سے تھوڑی سی آگ بھی لگی لیکن اس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا تو سعودی تیل کی برآمدات اگلے ایک سال کے لیے آدھی رہ جاتیں۔ سعودی عرب میں تین سال پہلے اسلامی شدت پسندی کے فروغ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تیل کی کسی تنصیب پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ابقیق کی ریفائنری پانچ ملین بیرل فی یومیہ تیل مہیا کرتی ہے۔ یاد رہے کہ بقیق میں واقع آئل ریفائنری دنیا کی چند بڑی ریفائنریوں میں سے ایک ہے۔ | اسی بارے میں ابقیق آئل ریفائنری: ’خودکش حملہ‘24 February, 2006 | آس پاس سعودی عرب، مسلح جھڑپ30 August, 2005 | صفحۂ اول سعودی بادشاہ کے لیے بڑا چیلنج06 August, 2005 | آس پاس المقرن کی لاش ٹیلی وژن پر19 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||