المقرن کی لاش ٹیلی وژن پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی ٹی وی نے القاعدہ رہنما عبدالعزیز المقرن کی لاش کی تصاویر نشر کی ہیں جسے سعودی سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا تھا۔ دریں اثنا ایک سعودی ترجمان عدل الجبیر نے کہا ہے کہ حکام کو امریکی یرغمال پال جانسن کی لاش ابھی تک نہیں ملی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر ان کے سر قلم کرنے کی تصاویر سے ان کے قتل کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس سے پہلے سعودی حکام نے کہا تھا کہ عبدالعزیز المقرن اور اس کے تین ساتھیوں کوایک جھڑپ میں اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہوں نے امریکی یرغمال پال جانسن کی سر کٹی لاش کو پھینکا تھا۔ ایک اسلامی ویب سائٹ میں عبدالعزیز المقرن کی ہلاکت کے دعویٰ کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ القاعدہ کے ایک مبینہ بیان میں کہا گیا ہے’ کہ سعودی حکام کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد اسلامی فداعین کے جذبہ جہاد کو کچلنا ہے‘۔ القاعدہ کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے کے لیے سعودی ٹی وی نے القاعدہ رہنما اور اس کےساتھیوں کی تصاویر نشر کیں۔ دوسرے انتہا پسند جن کی تصاویر دکھائی گئیں ان میں ترکی الموتیری بھی ہیں جن کو الخبر کے واقعہ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ پال جانسن کو گزشتہ ہفتے یرغمال بنایا گیا تھا اور وہ ایک انجینئر تھے جو ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ ان کی عمر انچاس برس تھی اور ان کا تعلق نیوجرسی سے تھا۔ اغوا کنندگان نے جانسن کے بدلے بعض قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور اس رہائی کے لیے جمعہ تک کا وقت دیا تھا۔ امریکی صدر جارج بش نے پال جانسن کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے قاتلوں کو وحشی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے پہلے کی اطلاعات میں سعودی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے انتہا پسندوں کو ریاض کے ایک پیٹرول پمپ پر اس وقت گھیرے میں لے لیا تھا جب لوگوں نے انہیں پال جانسن کی لاش گاڑی سے پھینکتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اس جھڑپ میں چار انتہا پسند اور ایک سکیورٹی فورس کا اہلکار ہلاک ہوئے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے بارہ ارکان کی گرفتاری کے علاوہ اسلحہ، گاڑیاں اور کچھ دستاویزات بھی قبضے میں لی ہیں۔ قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز المقرن کی ہلاکت سے سعودی حکام کووہ حوصلہ ملا ہے جس کی اس وقت انہیں اشد ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||