BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 June, 2004, 22:14 GMT 03:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی کا کیمرہ مین ہلاک
فرینک گارڈنر
بیالیس سالہ فرینک گارڈنر القاعدہ کے امور کے ماہر ہیں
سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والی فائرنگ سے بی بی سی کے کیمرہ مین سائمن کمبرز ہلاک جبکہ سکیورٹی کے امور سے متعلق نامہ نگار فرینک گارڈنر شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے چھتیس سالہ کمبرز فری لانس صحافی اور کیمرہ مین تھے جبکہ بیالیس سالہ فرینک گارڈنر بی بی سی کے نامہ نگار ہونے کے علاوہ القاعدہ کے موضوع پر ممتاز ماہر تھے۔

گارڈنر کو کئی گھنٹے تک آپریشن تھیٹر میں رکھا گیا اور ان کی حالت خاصی نازک تھی کیونکہ ان کے پیٹ میں زیادہ زخم آئے تھے۔

ریاض پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ’نامعلوم عناصر‘ نے اتوار کی شام کیا۔

سائمن اور فرینک دونوں گزشتہ ہفتے الخبر میں کئے گئے حملوں کے بعد سعودی عرب پہنچے تھے اور وہاں سے مستقل رپورٹنگ بھی کر رہے تھے۔

جس وقت حملہ کیا گیا اس وقت دونوں ریاض کے نواحی علاقے السوادیہ میں تھے۔ جنوبی ریاض کے نزدیک السوادیہ کے جس مقام پر حملہ کیا گیا وہاں ماضی میں دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی آپریشن کیے جاتے رہے ہیں۔

بی بی سی کے نیوز کے ڈائریکٹر رچرڈ سیمبروک نے بتایا کہ ’یہ دونوں ایک معروف شدت پسند کے گھر کے بارہ فلم ریکارڈ کر رہے تھے کہ قریب سے گزرنے والی سواری سے فائرنگ کی گئی اور میرے خیال میں ان دونوں پر کسی آٹومیٹک گن کے ذریعے گولی چلائی گئی۔‘

سیمبروک کے مطابق دونوں رپورٹر غالباً خطرے سے آگاہ تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے سکیورٹی کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آور فرار ہو گئے ہیں لیکن انہیں پکڑنے کی غرض سے سڑکوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے اس واقعہ پر ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا ہے

سائمن کمبرز بی بی سی اور دیگر بڑے خبر رساں اداروں کے لیے دنیا بھر میں پیش آنے والے واقعات کی فوٹوگرافی اور فلمیں بنا چکے ہیں۔

ریاض کے پولیس چیف کے مطابق اتوار کو یہ حملہ نامعلوم افراد نے مقامی وقت کے مطابق شام کے تقریباً پونے چھ بجے کیا تھا۔

بی بی سی کے نیوز ڈائریکٹر رچرڈ سیم بروک نے کہا کہ ’ہماری ہمدردی سائمن اور فرینک کے گھر والوں کے ساتھ ہے اور ہم ان سے مستقل رابطے میں ہیں‘۔

ایک ہی ہفتہ پہلے الخبر میں غیر ملکیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا اور اس آپریشن کے دوران بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سعودی دفتر خارجہ نے ہدایت کی ہے کہ صرف ضروری صورتحال میں سعودی عرب کا سفر کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد