الخبر کے ’حملہ آور‘ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی سیکیورٹی فورسز نے مغربی شہر طائف میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں ان دو مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے جو الخبر حملے میں مطلوب تھے۔ ان دو مشتبہ افراد کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہوں نے طائف کے ایک علاقے ہادا میں پولیسں پر حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں پولیس نے جوابی فائرنگ کی گئی اور دونوں مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ ایک اور واقعہ دارالحکومت ریاض میں پیش آیا جب امریکی فوج کے اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔ امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن سعودی حکام نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی ہے ۔ یہ واقعہ مشرقی شہر الخُبر میں شدت پسندوں کے ہاتھوں 22 افراد کی ہلاکت اور القائدہ کی اس اپیل کے بعد ہوا جس میں سعودی عرب سے غیر مسلموں کا صفایا کرنے کو کہا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کس طرح معلوم ہوا کہ طائف میں ہلاک ہونے الخبر کے حملہ آور تھے تاہم سعودی ٹی وی العریبیہ کا کہنا ہے کہ دونوں القاعدہ کے اراکین تھے۔ ٹی وی کے مطابق ان کے جسموں پر اسلحہ پڑا ہوا تھا اور ان کے پاس بندوقیں بھی تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک عورت کے بھیس میں تھا۔ دریں اثناء پولیس الخبر واقعہ کے بارے میں مزید تفصیلات اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حملہ آود کس طرح فرار ہوئے تھے۔ سعودی شاہی خاندان کے سلامتی کے مشیر نواف عبید کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے اغوا کرنے والوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کیونکہ ایسے اندیشے تھے کہ اگر ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ لوگ پوری رہائشی عمارت کو دھماکے سے اڑا دیں گے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں نواف عبید کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’یہ ایک معاہدہ تھا‘ اور یہ کہا گیا تھا کہ ’ ان لوگوں کو جانے دو‘ ۔ حملہ آوروں نے پہلے ہی 22 افراد کو ہلاک کردیا تھا جنہیں انہوں نے غیر مسلم قرار دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||