BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 08:54 GMT 13:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحرین حادثہ: کشتی کا کپتان گرفتار
بحرین میں کشتی کا حادثہ
بحرینی ساحل سے ایک میل دور کھلے سمندر حادثے کا شکار ہونے والی کشتی
بحرین کی پولیس نے جمعرات کی رات کشتی کے حادثے میں اکیس انڈین اور تین پاکستانیوں سمیت ستاون افراد کی ہلاکت کے بعد کشتی کے کپتان کو تفتیش کی خاطر حراست میں لے لیا ہے۔

ایک مقامی افسر نواف حمزہ نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’کپتان کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘۔

یاد رہے کہ بحرین کے ساحل کے قریب سیاحوں سے بھری ڈوبنے والی کشتی کے مالکان نے کہا تھا کہ گنجائش سے زائد لوگوں کا کشتی پر سوار ہونا حادثے کی وجہ تھی۔

الدانہ کمپنی کے عبداللہ القبیسی نے بتایا کہ ٹور آپریٹر ضرورت سے زیادہ سیاحوں کے سوار ہونے کے باوجود کشتی کو سمندر میں سیر کے لیے لے گئے جو کہ غلط قدم تھا۔ عبداللہ القبیسی نے بحرین کے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ اس کشتی پر صرف سو افراد کی گنجائش تھی۔

بحرین کے حکومتی اہلکاروں نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں 126 افراد کشتی پر سوار تھے۔ تاہم حکام کے مطابق فوری طور پر یہ بتانا مشکل ہے کہ ساحل کے قریب ہی کشتی کے ڈوبنے کی وجہ کیا تھی۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے غیر ملکی ہیں جو کہ بحرین ورلڈ ٹریڈ سنٹر ٹاور کے ایک حصے کی تکمیل کی خوشی میں کشتی پر دیے گئے ایک عشائیے میں شریک تھے۔

بحرینی حکام کے مطابق اب تک سمندر سے ستاون لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور مرنے والوں میں اکیس انڈین، تیرہ برطانوی، پانچ جنوبی افریقن،چار سنگاپوری، چار پاکستانی، پانچ فلپائنی، دو تھائی، ایک جرمن، ایک آئرش، ایک جنوبی کوریائی شامل ہیں۔

یہ حادثہ بحرین کے دارالحکومت منامہ کے ساحل سے ایک میل دور کھلے سمندر میں پیش آیا تھا۔حادثے کے فوراً بعد بحرینی کوسٹ گارڈ نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور آخری خبریں آنے تک سڑسٹھ افراد کو بچائے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

مرنے والے غیر ملکی
اکیس انڈین
تیرہ برطانوی
پانچ فلپائنی
پانچ جنوبی افریقن
چار سنگاپوری
چار پاکستانی
تین فلپائنی
دو تھائی
ایک جرمن
ایک آئرش
ایک جنوبی کورین
بحرینی حکام

اطلاعات کے مطابق الدانہ نامی اس کشتی میں کم از کم ایک سو پچاس افراد سوار تھے جن کا تعلق بحرین، انڈیا، برطانیہ، پاکستان، جنوبی افریقہ، مصر اور فلپائن سے بتایا جا رہا ہے۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق کشتی پر سوار افراد میں پچیس برطانوی، بیس فلپائنی، دس جنوبی افریقن اور دس مصری باشندے تھے۔

بحرین میں برطانیہ کے سفیر سٹیو ہیریسن کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق مشکل ہے کہ کتنے برطانوی ہلاک ہوئے ہیں کیونکہ نہ ہی مسافرو ں کی حتمی فہرست موجود ہے اور نہ ہی تمام مسافروں کے پاس شناختی کاغذات تھے۔

بحرینی کوسٹ گارڈ کے سربراہ یوسف الختم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر پنتالیس منٹ پر ڈوبی۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ کشتی پر سوار افراد کی تعداد امید سے کم تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ’اس ٹرپ کے منتظم کے مطابق دعوت پر 150 افراد کو مدعو کیا گیا تھا لیکن بیس کے قریب افراد کشتی چلنے سے قبل ہی ساحل پر واپس اتر گئے تھے۔‘

کشتی کا حادثہ
بحرین کے کوسٹ گارڈ کشتی میں لاشیں لا رہے ہیں

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی پر چلنے سےقبل گنجائش سے زیادہ افراد سوار دکھائی دیتے تھے۔ عینی شاہدین نے ہی بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت کشتی ڈوبی تو سمندر بالکل پر سکون تھا۔

ایک عینی شاہد سلمان الحاجی کا کہنا تھا کہ’ ہم ایک اور کشتی پر ایک عشائیے پر مدعو تھے اور حادثے کا شکار ہونے والی کشتی سے بھی موسیقی کی آواز آ رہی تھی کہ اچانک دوسری کشتی الٹ گئی۔ ہم اس کشتی سے کچھ فاصلے پر تھے تاہم کچھ لوگ تیر کر ہماری کشتی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔‘

بی بی سی کے وسطیٰ ایشیا کے نامہ نگار جون لین کے مطابق امریکی بحریہ نے ڈوبنے والوں کو بچانے کے لیئے بحرینی کوسٹ گارڈ کی مدد کی ہے۔ امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹر، چھوٹی کشتیاں اور ماہر تیراک اس آپریشن میں شامل ہیں۔

امریکی بحریہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈوبنے والی کشتی ایک روایتی عرب ڈھو تھی جس میں لوگ شام کے وقت تفریح کے لیئے سیر کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد