محمد احمد کا خاندان ’لا پتہ‘ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ سالہ محمد احمد نے اپنے والد احمد کو آخری بار اس وقت دیکھا جب بحیرہ احمر میں ڈوبنے والے جہاز میں آگ لگنے کے بعد اس نے محمد اور اس کی تین سالہ بہن کو ایک چھوٹی کشتی میں بٹھایا اور کہا کہ تم میرا انتظار کرو۔ محمد احمد کو السلام جہاز کے ڈوبنے کے بیس گھنٹے بعد کھلے سمندر سے نکالا گیا ہے اور اسے کے والد ، تین سالہ بہن رحما، والدہ اور ایک چند ماہ کا بھائی ان آٹھ سو افرادکی فہرست میں شامل ہے جن کے بارے میں مصری حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہ لاپتہ ہیں۔ محمد احمد کے چچا ہارون محمد کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ سالہ بھتیجے نے انہیں بتایا ہے کہ جہاز آگ لگنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔ محمد احمد کی کشتی ڈوب گئی جس میں اس کی تین سالہ بہن رحما بھی سوار تھی۔ محمد احمد اس کے بعد کوئی چیز یاد نہیں ہے۔ محمد احمد کا والد مکہ میں ایک سکول میں پڑھاتے تھے اور مڈ ٹرم کی چھٹیوں میں میں بچوں کے ساتھ واپس مصر جا رہے تھے۔محمد احمد کو ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ ان کی امی ابو اور بہن بھائی کہاں ہیں۔ سینتیس سالہ محمد شریف مصطفیٰ بھی ان خوش قسمت لوگوں میں ہیں جن کو بچا لیا گیا ہے۔ محمد شریف مصطفیٰ نے بتایا کہ جب جہاز کے نچلے حصے میں آگ لگ گئی تو مسافر جہاز کے ڈیک پر اکھٹے ہو گئے۔ محمد شریف نے کہا کہ جہاز کا عملے نے کسی مسافر کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی حتکہ ان کو لائف جیکٹ پہننے کے لیے کو ئی مدد نہیں کی گئی۔ محمد شریف مصطفیٰ نے جو مدینہ میں انگلش ٹیچر ہیں، بتایا کہ جب ان کو یقین ہو گیا کہ جہاز ڈوب جائے گا تو انہوں نے لائف جیکٹ پہن کر سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ خوش قسمتی محمد شریف مصطفیٰ ایک کشتی میں جا گرے جس میں پہلے سے ہی پندرہ لوگ سوار تھے۔ جس کشتی نے محمد شریف مصطفیٰ کی جان بچائی اس میں بھی سوراخ ہو چکے تھے اور اس پر سوار تمام لوگوں نے مل کر اس کے سوراخ بند کیے اور جوتوں کی مدد سے اسے اس وقت تک چلاتے رہے جب تک ایک مصری ہیلی کاپٹر نے ان کو دیکھ لیا اور پھر ان کی بچانے کے لیے کشتی پہنچ گئی۔ محمد شریف مصطفیٰ کو جہاز کمپنی کے مالکوں پر سخت غصہ ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان ’مجرموں‘ کو سزا دی جائے۔ | اسی بارے میں ’آگ کے باوجود سفرجاری رکھاگیا‘04 February, 2006 | آس پاس لاپتہ مسافروں کی پھر سے تلاش 05 February, 2006 | آس پاس کشتی الٹ گئی، 1400 مسافر لاپتہ03 February, 2006 | آس پاس سینکڑوں ہلاکتوں کاخدشہ03 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||