BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 February, 2006, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آگ کے باوجود سفرجاری رکھاگیا‘
بچ جانے والے
فیری حادثے میں تین سو افراد کو بچا لیا گیا جبکہ ایک ہزار لاپتہ ہیں
بحیرۂ احمر میں ڈوبنے والے مصری جہاز کے بچ جانے والے مسافروں نے کہا ہے کہ جہاز میں ڈوبنے سے قبل گھنٹوں آگ بھڑکتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جہاز میں سعودی عرب سے روانہ ہوتے ہی آگ لگ گئی تھی اور دو گھنٹے سفرکرنے کے بعد وہ ڈوب گیا۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہےکہ جہاز پر سوار ایک ہزار افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔ جہاں کے ساڑھے تین سو مسافر زندہ بچے ہیں جبکہ باقی ابھی تک لاپتہ ہیں۔

بچ جانے والے ایک مسافر رفعت نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ آگ بجھائی جا رہی ہے لیکن اس کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔

مصر کے ایک وزیر نے آگ کو معمولی قرار دیا اور کہا جہاز پر کوئی دھماکہ نہیں ہوا تھا۔

مصر میں جہاز کے مسافروں کے عزیزوں اقارب نے شدید احتجاج کیا ہے اور کہا کہ انہیں صحیح معلومات نہیں فراہم کی جا رہی تھیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

فیری
فیری پر سوار مسافروں کے رشتہ دار اپنے عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر ہیں۔

سعودی عرب سے مصر جانے والا یہ مسافر جہاز جمعرات کے روز سعودی بندرگاہ دوبہ چھوڑنے کے کچھ ہی دیر بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ مصری حکومت کا کہنا ہے کہ کیپٹن کی طرف سے خطرے کا کوئی سنگل موصول نہیں ہوا تھا۔

بہت سے مسافروں کا تعلق مصر سے تھا جو سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔ جہاز پر کچھ حجاج بھی سوار تھے۔ایک سو کے قریب سعودی عرب اور سوڈانی باشندے بھی جہاز میں سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جہاز سے آخری رابطہ دوبہ کی بندرگاہ سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا تھا۔

مصر کے صدر حسنی مبارک نے حادثے کی مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ جس رفتار سے جہاز ڈوبا ہے اس سے لگتا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری پوری نہیں تھی۔

جہاز کے مصری مالک السلام میری ٹائم ٹرانسپورٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس فیری میں چودہ سو سے زیادہ افراد کے سفر کرنے کی گنجائش تھی اور اس میں مسافر گنجائش سے زیادہ نہیں تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق جہاز میں 220 گاڑیاں بھی لادی گئیں تھیں۔

برطانیہ کا ایک جنگی جہاز جسے امدادی کارروائی کے لیے علاقے میں بلایا گیا تھا اب وہاں نہیں جا رہا ہے کیونکہ مصر نے کہا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے اپنے جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر مسافروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں لائڈز میری ٹائم انشورنس کے جنرل مینجر نظام صدیقی نے کہا ہے کہ جہاز مکمل طور پر سفر کے لیے تیار تھا اور اس کی حالت بلکل صحیح تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا جہاز میں زندگی بچانے کی کشتیوں سمیت تمام حفاظتی سامان موجود تھا۔

نظام صدیقی نے کسی دوسرے جہاز سے ٹکرانے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم دوسرا جہاز اس کی رپوٹ کرتا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد