BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 February, 2006, 22:27 GMT 03:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینکڑوں ہلاکتوں کاخدشہ
بچ جانے والے
فیری حادثے میں تین سو افراد کو بچا لیا گیا جبکہ ایک ہزار لاپتہ ہیں۔
بحیرۂ احمر میں ڈوبنے والے مصری مسافر جہاز کے نو سو سے زیادہ مسافر ابھی تک لاپتہ ہیں۔

تین سو مسافروں کو بچا لیا گیا ہے جبکہ ابھی تک ایک سو پچاسی لاشوں کو سمندر سے نکالا جا چکا ہے۔

مصر کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک تین سو لوگوں کو زندہ بچا لیا گیا اور ایک سو پچاسی لاشیں بھی سمندر سے نکال لی گئی ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

جہاز کو حادثہ پیش آنے کی کوئی وجہ پتہ نہیں چل سکی ہے لیکن زندہ بچ جانے والے ایک مسافر نے بتایا ہے کہ جہاز آگ لگنے سے ڈوب گیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے مسافر جہاز میں عملے کے بانوے افراد سمیت چودہ سو دو افراد تھے۔

فیری
فیری پر سوار مسافروں کے رشتہ دار اپنے عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر ہیں۔

سعودی عرب سے مصر جانے والا یہ مسافر جہاز جمعرات کے روز سعودی بندرگاہ دوبہ چھوڑنے کے کچھ ہی دیر بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ مصری حکومت کا کہنا ہے کہ کیپٹن کی طرف سے خطرے کا کوئی سنگل موصول نہیں ہوا تھا۔

بہت سے مسافروں کا تعلق مصر سے تھا جو سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔ جہاز پر کچھ حجاج بھی سوار تھے۔ایک سو کے قریب سعودی عرب اور سوڈانی باشندے بھی جہاز میں سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جہاز سے آخری رابطہ دوبہ کی بندرگاہ سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا تھا۔

مصر کے صدر حسنی مبارک نے حادثے کی مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے۔صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ جس رفتار سے جہاز ڈوبا ہے اس سے لگتا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لیے تیاری پوری نہیں تھی۔

فیری کے مصری مالک السلام میری ٹائم ٹرانسپورٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس فیری میں چودہ سے زیادہ افراد کے سفر کرنے کی گنجائش تھی اور اس میں مسافر گنجائش سے زیادہ نہیں تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق جہاز میں 220 گاڑیاں بھی لادی گئیں تھیں۔

برطانیہ کے ایک جنگی جہاز جس کو علاقے میں جانے کے لیے کہا گیا تھا اب وہ وہاں نہیں جا رہا ہے کیونکہ مصر نے کہا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے اپنے جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر مسافروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں لائڈز میری ٹائم انشورنس کے جنرل مینجر نظام صدیقی نے کہا ہے کہ جہاز مکمل طور پر سفر کے لیے تیار تھا اور اس کی حالت بلکل صیح تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا جہاز میں زندگی بچانے کے کشتیاں سمیت تمام حفاظتی سامان موجود تھا۔

نظام صدیقی نے کسی دوسرے جہاز سے ٹکر کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم دوسرا جہاز اس کی رپوٹ کرتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد