مردہ وہیل کا تجزیہ کیا جائے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آبی جانوروں کے ایک ماہر دریائے ٹیمز میں پھنسنے والی اس وہیل کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں جو اسے واپس سمندر میں پہچانے کے لیے کی جانے والی سات گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے باوجود ہلاک ہو گئی تھی۔ اٹھارہ فٹ لمبی اس ’باٹل نوز وہیل‘ کی ٹیمز میں موجودگی کے بعد ٹیمز کے ’بیٹر سی‘ پل کے نزدیک ایک خصوصی’پنٹنون‘ میں رکھا گیا تھا جہاں سے اسے کشتی کے ذریعے سمندر کے گہرے پانی میں لے جا کر چھوڑنے کے لیے لے جایا رہا تھا تاہم اس سفر کے دوران وہ ہلاک ہو گئی۔ سفر کے دوران ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل وہیل کی صحت کا جائزہ لیتی رہی۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے وہیل کا الٹراساؤنڈ بھی کیا اور اسے متعدد انجکشن بھی لگائے تھے تاہم انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کر دیا تھا کہ اس کی حالت تسلی بخش نہیں اور اس کے سانس کا نظام مکمل طور پرصحیح کام نہیں کر رہا۔ زولوجیکل سوسائٹی آف لندن کے پال جیسن کا کہنا ہے کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ وہیل آخر کس طرح بھٹک کر سمندر سے ٹیمز میں آ گئی۔ سنیچر کو لندن کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد وہیل کے اس سفر کو دیکھنے کے لیے دریائے ٹیمز کے پلوں پر جمع تھی جب کہ لاکھوں لوگوں نے اس سارے سفر کو مسلسل کئی گھنٹے تک ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی براۂ راست نشریات کے ذریعے دیکھا۔ اس سے پہلے کچھ فطرت پسندوں نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ وہیل کو اس طرح لے جایا جانا غلط ہے کیونکہ وہیل کو اپنے ارد گرد کھلی جگہ درکار ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں وہیل واپس نہ جا سکی21 January, 2006 | آس پاس ’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی18 January, 2006 | نیٹ سائنس جاپانیوں کی سرمئی ویل میں دلچسپی05 May, 2005 | آس پاس اور اب وہیل برگر24 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||