BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی
وہیل شارک
ان اعداد و شمار کو بہت پریشان کن سمجھا جا رہا ہے
آسٹریلوی ساحلوں سے کچھ فاصلے پر پائی گئی دنیا کی سب سے بڑی مچھلی ’وہیل شارک‘ چھوٹی ہو رہی ہے۔

ایک دہائی کے عرصے میں اس کی اوسط لمبائی سات میٹر کی بجائے پانچ میٹر ہو گئی ہے۔ تحقیق کاروں کو شبہ ہے کہ کچھ علاقوں میں اس کا شکار کیا جا رہا ہے اور اس وجہ سے یہ کم بھی ہو رہی ہے۔

اس مچھلی کو ’غیر محفوظ‘ قرار دیا گیا ہے اور تحقیق کاروں کے مطابق حالیہ رجحان بہت تشویش ناک ہے۔ یہ اعداد و شمار قدرتی مناظر کی سیر ’ایکو ٹورزم‘ کروانے والی کمپنیوں نے فراہم کیے ہیں۔ ان کمپنیوں نے سیر کے دوران دیکھی گئی تمام وہیل مچھلیوں کی پوزیشن، لمبائی اور جنس کا ریکارڈ اکٹھا کیا ہے۔

آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنسز کے نمائندے مارک میکن نے بی بی سی ویب سائٹ کو بتایا کہ ’ہم نے یہ اعداد و شمار حاصل کر کے ان کا تجزیہ کیا ہے اور یہ بات واضع طور پر محسوس کی گئی ہے کہ دس سالوں کے دوران وہیل کے سائز میں کمی واقع ہوئی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ’اب اگر آپ یہ دیکھیں کہ وہیل چھ یا سات میٹر کے سائز تک پہنچنے سے پہلے بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی تو یہ ایک فکر انگیز بات ہے‘۔

وہیل شارک چھوٹی آبی مخلوقات کو کھا کر زندہ رہتی ہے اور یہ ڈیڑھ سو سال تک زندگی پا سکتی ہے جس کے دوران اس کی لمبائی بیس میٹر تک ہو سکتی ہے اور خیال ہے کہ یہ تیس سال کی عمر میں جنسی بلوغت کی حالت کو پہنچتی ہے۔

برطانیہ کی یورک یونیورسٹی کے کالم رابرٹ نے وہیل پر کافی تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سے دوسری مخلوقات کی طرح وہیل شارک لمبی عمر اور کم بچے پیدا کرنے کی وجہ سے خود غرضانہ فائدے حاصل کرنے کے رجحان کا شکار ہوئی ہے‘۔

وہیل شارک
نر اور مادہ وہیل علیحدہ رہتے ہیں

آسٹریلوی تحقیقاتی ادارے کے تحقیق کار وہیل مچھلیوں پر نشان لگا رہے ہیں تاکہ آسٹریلیا، ایشیا اور افریقہ کے درمیان ان کی نقل و حمل کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے ایک مچھلی کو آسٹریلیا سے ایشیا جاتے ہوئے پایا۔ گزشتہ ماہ وہیل پر لگایا گیا نشان انڈونیشیا میں زمین پر پایا گیا جس سے پتہ چلا کہ وہیل کو شکار کیا گیا ہے۔

وہیل کے جسم کے مختلف حصے خوراک سے لے کر ادویات تک مختلف طریقوں سے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ وہیل کی نقل و حمل کے راستوں کا پتہ چلنے سے ان کے شکار کے مقامات کا بھی اندازہ ہو سکے گا۔

مارک میکن نے کہا کہ ’وہیل کا شکار کرنے والے بہت سے لوگ دیہاتی ہیں جن کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ وہ کون ہیں تو ہم انہیں کوئی متبادل دے سکتے ہیں جو بہت پرکشش ہو سکتا ہے۔ ننگلو میں ایکو ٹورزم کی صنعت کا سالانہ حجم پانچ کروڑ امریکی ڈالر ہے جس سے پورے شہر کی مدد کی جا سکتی ہے۔

اس آسٹریلیوی ادارے کا مقصد وہیل شارک کی زندگی کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کرنا ہے۔ سب سے بڑا معمہ ان کا بچے پیدا کرنے کا نظام ہے کیونکہ نر اور مادہ وہیل الگ الگ گروہوں میں رہتے ہیں لیکن پچے پیدا کرنے کے لیے ان کا کہیں ملنا تو ضروری ہے۔

 برڈ فلو کی واحد دوا ’دوا بھی کام نہ آئے‘
برڈ فلو کی واحد دوا کے خلاف مدافعت
انسانی آنکھاندھے پن سے بچیں
چالیس سال تک ایک سگریٹ پینے سے
اسی بارے میں
وھیل شارک کی زندگی کے راز
25 September, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد