وہیل واپس نہ جا سکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائے ٹیمز میں پھنسنے والی وہیل واپسی کے سفر کے دوران ہلاک ہو گئی ہے۔ اٹھارہ فٹ لمبی اس ’باٹل نوز وہیل‘ کو لندن کے ’بیٹر سی‘ پل کے نزدیک ایک خصوصی’پنٹنون‘ میں رکھا گیا تھا جہاں سے اسے کشتی کے ذریعے دریا کے دہانے کی جانب لے جایا جا رہا تھا تاہم اس سفر کے دوران وہ ہلاک ہو گئی۔ وہیل کو ایک ہوا بھری کشتی پر رکھا گیا تھا اور اس پر مستقل پانی بھی ڈالا جا رہا تھا تاہم اس کے باوجود وہ زندہ کھلے پانیوں تک نہ پہنچ سکی۔ سفر کے دوران ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل وہیل کی صحت کا جائزہ لیتی رہی۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے وہیل کا الٹراساؤنڈ بھی کیا اور اسے متعدد انجکشن بھی لگائے تھے تاہم انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کر دیا تھا کہ اس کی حالت تسلی بخش نہیں اور اس کے سانس کا نظام مکمل طور پرصحیح کام نہیں کر رہا۔ لندن کے شہری اس وہیل کے اس سفر کو دیکھنے کے لیے دریائے ٹیمز کے پلوں پر جمع ہوئے تھے اور اطلاعات کے مطابق’ بیٹر سی‘ پل پر تین ہزار کے قریب افراد نے اس وہیل کو کھلے پانیوں میں لے جائے جانے کا منظر دیکھا۔ یاد رہے کہ لندن کے دریائے ٹیمز میں جمعہ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے آفس جاتے ہوئے ایک مسافر نے اس مچھلی کو ٹرین سے دیکھا اور حکام کو اس کے متعلق فوراً خبردار کیا تھا۔ جس کے بعد سے اسے بحفاظت گہرے پانیوں میں پہنچانے کی کوشش شروع کر دی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی18 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||