جاپانیوں کی سرمئی ویل میں دلچسپی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹوکیو بے کے ایک صنعتی شہر سوڈیگاورا میں دس میٹر (33 فٹ) لمبی، سرمئی ویل مچھلی کے نظر آنے سے وہاں لوگوں میں تفریح کا سماع۔ کاموگوا سیی (مچھلی گھر) کے ڈپٹی نظام کزوتوشی آرائے کے مطابق اس ویل مچھلی کو کچھ مچھیروں نے تقریبًا دو پہلے دیکھا تھا۔سٹر آرائے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت تیس ہزار ویل مچھلیاں بحرارکاہل میں موجود ہیں۔ ان ویل مچھلیوں کی خوراک میں شامل سمندری کیڑے اور سخت کھال والی مچھلیاں ہوتیں ہیں۔ ان ویل مچھلیوں کا وزن پتیس ٹن تک ہوسکتا ہے۔ اس ویل کے نظر آنے سے ٹوکیو میں موجودہ سیاحوں کی خوشی دوبلا ہوگئی ہے۔جاپان میں اس وقت سالانہ گولڈن ہفتہ منایا جارہا ہے۔ ویل مچھلی جاپان میں ایک خاص طرح کے پکوان میں استعمال ہونے کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ ہر سال جاپان میں تقریبًا 400 مک ویل ماری جاتی ہیں اور اس سے کچھ کم مقدارمیں برائڈ ، سئی اور سپرم ویلوں کو نئے تجربوں کی وجہ سے مارا جاتا ہے۔ بعض ناقدئن کا یہ کہنا ہے جاپان نے ویل مچھلیوں کے تجربوں کو بہانا بنا کر انہیں خرید اور فروخت اور کھانے میں استعمال میں لانے کی وجہ بتا ئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||