BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 January, 2006, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہیل کا سانحہ، اوپر سے جرمانہ بھی
گاڑیوں پر میرین ایمبولینس کے الفاظ درج ہونے کے باوجود جرمانہ عائد کیا گیا
لندن کے دریائے ٹیمز میں پھنسنے والی وہیل کی جان بچانے کی کوششیں کرنے والے ریسکیو کارکنان کو غلط پارکنگ کرنے پر تین سو پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ایک طرف تو وہیل کی جان بچانے کا مشن ناکام رہا اوروہ گہرے پانیوں تک پہنچائے جانے سے پہلے ہی دم توڑ گئی اور دوسری طرف ریسکیو ورکرز کو اب تین سو پاؤنڈ سے زیادہ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

برطانیہ کی ایک چیریٹی برٹش میرین ڈائیورز نے اس ریسکیو آپریشن کی ذمہ داری لی تھی۔ تنظیم کے چیئر مین ایلین نائٹ کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں نے اپنی گاڑیاں لندن کے واکس ہال برج پر پارک کردی تھیں جہاں سامنے ہی پارکنگ میٹرز نصب تھے۔ چیئر مین کا کہنا تھا کہ وہیل کی جان بچانے کی جلدی میں یہ لوگ پارکنگ ٹکٹ لیے بغیر ہی دریا میں کود گئے اور اگلے روز تک واپس نہ آسکے۔

انیس فٹ لمبی یہ وہیل لندن کے دریائے ٹیمز میں جمعہ کی صبح دیکھی گئی تھی جس کے بعد یہ وہیل دیکھنے کے لیے لندن کے شہری بڑی تعداد میں دریا کے کنارے جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔

تاہم ٹیمز کے آلودہ پانی میں وہیل کی حالت جلد ہی خراب ہونے لگی اور اسے بحفاظت گہرے پانی تک پہنچانے کے لیے یہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

ایلین نائٹ کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے یہ تھوڑی سی پریشانی کی بات ہے کہ ہمیں تین سو پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ہماری گاڑیوں کی سائیڈوں پر اگرچہ مرین میڈکس اور میرین ایمبولینس کے الفاظ درج ہیں پھر بھی ہم پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ میرے خیال میں انہیں ہمیں شک کا فائدہ دینا چاہیے تھا۔‘

انکا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا چیریٹی ادارہ ہے جس کے پاس فنڈز بھی محدود ہیں۔ ’ہمیں ریسکیو آپریشن کے لیے پہلے ہی پانچ ہزار پاؤنڈ کا بل ادا کرنا ہے۔ مگر مجھے امید ہے کہ عوام ہماری حمایت کریں گے اور ہم شاید چندہ جمع کرکے یہ رقوم ادا کرسکیں’۔

دریں اثناء کینٹ میں اس وہیل کا پوسٹ مارٹم کیا جاچکا ہے جس کی تفصیلات بدھ کو جاری کی جائیں گی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ مردہ وہیل کا کیا جائے گا۔ ایک مرین ماہر کا کہنا ہے کہ اسے یاتو زمین میں دبا دینا چاہیے یا پھر جلا دینا چاہیے کیونکہ وہیل کے بارے میں ایک ایسی بیماری پائے جانے کے امکانات ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہے۔

لندن کی میری ٹائم کوسٹ گارڈ ایجنسی نے یہ کہہ کر اس وہیل کی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا ہے کہ اس نے زمین پر دم نہیں توڑا بلکہ اس وقت وہ ایک کشتی پر رکھی گئی تھی۔

اسی بارے میں
وہیل واپس نہ جا سکی
21 January, 2006 | آس پاس
سنٹرل لندن میں وہیل
20 January, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد