BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 February, 2006, 05:42 GMT 10:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ مسافروں کی پھر سے تلاش
بچ جانے والے
لاپتہ مسافروں کے رشتہ داروں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
بحیرۂ احمر میں جمعرات کو ڈوبنے والے مصری جہاز کے آٹھ سو کے قریب لاپتہ مسافروں کی پھر سے تلاش کی جا رہی ہے۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ اب تک جہاز پر سوار چودہ سو لوگوں میں سے 380 کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ دو سو لاشیں بھی سمندر سے نکالی گئی ہیں۔

مصر کے صدر حسنی مبارک نے قوم سے خطاب کے دوران حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈوبنے والے شہید ہیں۔

لاپتہ مسافروں کے رشتہ داروں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ مسافروں کے عزیزوں اقارب کو غصہ ہے کہ انہیں صحیح معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

بچ جانے والے مسافروں نے کہا ہے کہ جہاز میں ڈوبنے سے قبل گھنٹوں آگ بھڑکتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جہاز میں سعودی عرب سے روانہ ہوتے ہی آگ لگ گئی تھی اور دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد وہ ڈوب گیا۔

سعودی عرب سے مصر جانے والا یہ مسافر جہاز جمعرات کے روز سعودی بندرگاہ دوبہ چھوڑنے کے کچھ ہی دیر بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔

بہت سے مسافروں کا تعلق مصر سے تھا جو سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔ جہاز پر کچھ حجاج بھی سوار تھے۔ایک سو کے قریب سعودی عرب اور سوڈانی باشندے بھی جہاز میں سوار تھے۔

مصر کے صدر حسنی مبارک نے حادثے کی مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ جس رفتار سے جہاز ڈوبا ہے اس سے لگتا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری پوری نہیں تھی۔

جہاز کے مصری مالک السلام میری ٹائم ٹرانسپورٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس فیری میں چودہ سو سے زیادہ افراد کے سفر کرنے کی گنجائش تھی اور اس میں مسافر گنجائش سے زیادہ نہیں تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق جہاز میں 220 گاڑیاں بھی لادی گئیں تھیں۔

برطانیہ کا ایک جنگی جہاز جسے امدادی کارروائی کے لیے علاقے میں بلایا گیا تھا اب وہاں نہیں جا رہا ہے کیونکہ مصر نے کہا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے اپنے جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر مسافروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں لائڈز میری ٹائم انشورنس کے جنرل مینجر نظام صدیقی نے کہا ہے کہ جہاز مکمل طور پر سفر کے لیے تیار تھا اور اس کی حالت بلکل صحیح تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا جہاز میں زندگی بچانے کی کشتیوں سمیت تمام حفاظتی سامان موجود تھا۔

نظام صدیقی نے کسی دوسرے جہاز سے ٹکرانے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم دوسرا جہاز اس کی رپوٹ کرتا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد