بحرین: کشتی ڈوب گئی، 57 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحرین کے ساحل کے قریب سیاحوں سے بھری ایک کشتی ڈوبنے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستاون ہوگئی ہے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے غیر ملکی ہیں جو کہ بحرین ورلڈ ٹریڈ سنٹر ٹاور کے ایک حصے کی تکمیل کی خوشی میں کشتی پر دیے گئے ایک عشائیے میں شریک تھے۔ بحرینی حکام کے مطابق اب تک سمندر سے ستاون لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور مرنے والوں میں سترہ انڈین، تیرہ برطانوی، چار جنوبی افریقن،چار سنگاپوری، تین پاکستانی، تین فلپائنی، ایک جرمن اور ایک آئرش بھی شامل ہیں۔ یہ حادثہ بحرین کے دارالحکومت منامہ کے ساحل سے ایک میل دور کھلے سمندر میں پیش آیا تھا۔حادثے کے فوراً بعد بحرینی کوسٹ گارڈ نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور آخری خبریں آنے تک سڑسٹھ افراد کو بچائے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق الدانہ نامی اس کشتی میں کم از کم ایک سو پچاس افراد سوار تھے جن کا تعلق بحرین، انڈیا، برطانیہ، پاکستان، جنوبی افریقہ، مصر اور فلپائن سے بتایا جا رہا ہے۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق کشتی پر سوار افراد میں پچیس برطانوی، بیس فلپائنی، دس جنوبی افریقن اور دس مصری باشندے تھے۔ بحرین میں برطانیہ کے سفیر سٹیو ہیریسن کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق مشکل ہے کہ کتنے برطانوی ہلاک ہوئے ہیں کیونکہ نہ ہی مسافرو ں کی حتمی فہرست موجود ہے اور نہ ہی تمام مسافروں کے پاس شناختی کاغذات تھے۔ بحرینی کوسٹ گارڈ کے سربراہ یوسف الختم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر پنتالیس منٹ پر ڈوبی۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ کشتی پر سوار افراد کی تعداد امید سے کم تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اس ٹرپ کے منتظم کے مطابق دعوت پر 150 افراد کو مدعو کیا گیا تھا لیکن بیس کے قریب افراد کشتی چلنے سے قبل ہی ساحل پر واپس اتر گئے تھے‘۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی پر چلنے سےقبل گنجائش سے زیادہ افراد سوار دکھائی دیتے تھے۔ عینی شاہدین نے ہی بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت کشتی ڈوبی تو سمندر بالکل پر سکون تھا۔ ایک عینی شاہد سلمان الحاجی کا کہنا تھا کہ’ ہم ایک اور کشتی پر ایک عشائیے پر مدعو تھے اور حادثے کا شکار ہونے والی کشتی سے بھی موسیقی کی آواز آ رہی تھی کہ اچانک دوسری کشتی الٹ گئی۔ ہم اس کشتی سے کچھ فاصلے پر تھے تاہم کچھ لوگ تیر کر ہماری کشتی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ بی بی سی کے وسطیٰ ایشیا کے نامہ نگار جون لین کے مطابق امریکی نیوی ڈوبنے والوں کو بچانے کے لیئے بحرینی کوسٹ گارڈ کی مدد کر رہی ہے۔ امریکی نیوی کے ہیلی کاپٹر، چھوٹی کشتیاں اور ماہر تیراک اس آپریشن میں شامل ہیں۔ امریکی نیوی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈوبنے والی کشتی ایک روایتی عرب ڈھو تھی جس میں لوگ شام کے وقت تفریح کے لیئے سیر کر رہے تھے۔ | اسی بارے میں بحرین: کشتی ڈوبنے سے اڑتالیس ہلاک30 March, 2006 | آس پاس کشتی الٹ گئی، 1400 مسافر لاپتہ03 February, 2006 | آس پاس لاپتہ مسافروں کی پھر سے تلاش 05 February, 2006 | آس پاس محمد احمد کا خاندان ’لا پتہ‘ ہے06 February, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: کشتی ڈوبنے سے25 ہلاک08 November, 2005 | آس پاس کشتی ڈوبنے سے 21 افراد ہلاک03 October, 2005 | آس پاس کشتی ڈوبنے سے111 افراد ہلاک20 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||