امریکی کمپنی پر غیرملکی بِڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی شپنگ کمپنی پی اینڈ او کو خریدنے کے لیے بولی دینے والی دبئی کی ایک کمپنی پتنتالیس دن کے سکیورٹی جائزے کے لیے رضا مند ہو گئی ہے۔ اس سودے پر امریکہ کی ایک اور بولی دینے والی کمپنی ایلر نے سکیورٹی خدشات اٹھائے تھے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی کمپنیوں پر غیر ملکی کنٹرول حاصل کرنے کی تجارتی اداروں کی کوششوں پر امریکی سیاست دان سکیورٹی سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سکیورٹی جائزے کی رضامندی سے دبئی پورٹس ورلڈ یا ڈی پی ڈبلیو نامی کمپنی کا مقصد میامی کی ایلراینڈ کوکمپنی کو مطمئن کرنا ہے جو تین اعشاریہ نو بلین پونڈ کی اس متنازعہ بولی کو روکنے کی کوشش میں ہے۔ ایلر اینڈ کمپنی نے لندن کی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سودے سے اس کے کاروباری مفادات کو ٹھیس پہنچے گی۔ پیر کو ہائی کورٹ کی سماعت کے دوران اس ڈیل پر باضابطہ پابندی لگنے کی امید ہے۔ ایلر اینڈ کو میامی کی بندرگاہ پر مال جہاز سے اترانے کی خدمات سر انجام دیتی ہے۔ اس کاروباری سودے پر تنقید کرنے والوں میں ڈیموکریٹک سنیٹر ہلری کلنٹن بھی ہیں جنہوں نے اس ضمن میں سکیورٹی جائزے کی تو تعریف کی ہے البتہ انہوں نے صدر بش کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہلری کلٹن نےصدر بش پر الزام لگایا کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی سے واقف نہیں جو ملکی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس بارے میں کیا جانے والا جائزہ بغیر کسی دباؤ کے کیا جانا چاہیے۔ ڈی پی ڈبلیو کا کہنا ہے کہ اس بولی پر ہونے والا واویلہ تعجب خیز ہے۔ امریکی ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے سیاست دانوں نے اس سودے پر کڑی تنقید کی ہے کہ جس کی رو سے ڈی پی ڈبلیو امریکہ کی چھ پورٹوں کا انتظام سنبھال لے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سودے کی بدولت دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ جائیں گی۔ اس سودے کے بارے میں متحدہ عرب امارات کی ڈی پی ڈبلیو کمپنی کا دعوی ہے کہ وہ ملک کو سیاحوں کے لیے مزید پر کشش بنا دے گی۔ ان دونوں جماعتوں کے سینٹروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے دوران ان سے مشورہ نہیں لیا گیا۔ ڈی پی ڈبلیو کو جو اس کاروباری سودے سے قبل ہی سکیورٹی جائزے کے لیے رضا مند ہو گئی ہے اب بھی اس بات پر قائم ہے کہ وہ بولی جیت جائے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ان بندرگاہوں کا انتظام اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی کہ جب تک سکیورٹی کا معاملہ مکل طور پر حل نہیں ہو جاتا۔
ان بندرگاہوں کا انتظام چلانے کے لیے ڈی پی ڈبلیو کمپنی کاایک علیحدہ ذیلی کمپنی قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ نیو جرسی میں حکام اس بات کی کوشش میں مصروف ہیں کہ قانونی راستے سے اس ڈیل کو بلاک کر دیا جائے جبکہ نیویارک اور نیو جرسی کی پورٹ اتھارٹی بھی اس تگ و دو میں ہیں کہ کسی طرح پی اینڈ او کا تیس سالہ آوپریٹنگ لائسنس منسوخ کروا دیا جائے۔ اس سلسلے میں ان کا موقف ہے کہ پی اینڈ او مالکانہ حقوق کی منتقلی کے لیے مجوزہ اجازت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ دبئی پورٹس ورلڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیل کے بارے میں مخلص ہے اور اگر یہ ڈیل ہو جاتی ہے تو اس طرح ڈی پی ڈبلیو دنیا کی تیسری سب سے بڑی پورٹ آپریٹر کمپنی بن جائے گی۔ بش انتظامیہ اس ڈیل کی حمایت کر رہی ہے اور اس بارے میں اس کا موقف ہے کہ اس ڈیل سے امریکہ کی سلامتی کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہیں تاہم وہ اس سلسلے میں کانگریس کے شکوک و شبہات کو دور کرنےاور سودے کی تفصیلات واضح کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے منصوبے کے حق میں ہے۔ |
اسی بارے میں امریکی تجاویز پر صلاح مشورے06 September, 2003 | صفحۂ اول فصیل غیر قانونی ہے: عالمی عدالت09 July, 2004 | آس پاس اقوام متحدہ کی امریکہ کو تنبیہ25 June, 2004 | آس پاس امریکہ مزید بات چیت پر تیار10 December, 2005 | آس پاس ’امریکہ حکم دینے سے پرہیز کرے‘15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||