اقوام متحدہ کی امریکہ کو تنبیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں واشنگٹن کو متنبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس کے کچھ اقدامات بین الا قوامی قوانین کے مطابق نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اپیل کی ہے کہ انہیں گونتانوموبے، افغانستان اور عراق میں قیدیوں تک رسائی دی جائے۔ اس سے پہلے امریکہ نے گونتانوموبے میں قیدیوں تک رسائی کے لیے اقوام متحدہ کی درخواست رد کر دی تھی۔ جینوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیان ظاہر ہوتا ہے کہ کس حد تک امریکہ کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات انسانی حقوق پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پینٹاگن کا اصرار ہے کہ گونتانوموبے میں قیدیوں پر مقدمات شفاف اور انصاف پر مبنی ہوں گے۔ امریکہ کا بیان برطانیہ کے اٹارنی جنرل گولڈ سمتھ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ گونتانوموبے میں قیدیوں پر مقدمات چلانے کے لیے جو فوجی عدالتیں قائم کرنا چاہتا ہے وہ بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||