امریکہ: ٹرانسپورٹ کی ہڑتال ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے شہر نیو یارک میں ٹرانسپورٹ ملازمین نے ہڑتال ختم کر کے انتظامیہ سے اپنے مطالبات کے سلسلے میں بات چیت شروع کر دی ہے۔ تین دن سے جاری یہ ہڑتال ملازمین اور حکام کے مابین تنخواہ، صحت کی سہولتوں، پینشن اور ریٹائرمنٹ کی عمر کے متعلق اختلافات کے نتیجے میں کی گئی تھی۔ ہڑتال کی وجہ لاکھوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انیس سو اسی میں گیارہ دن جاری رہنے والی ہڑتال کے بعد یہ عوامی ذرائع آمدورفت کی سب سے بڑی ہڑتال ہے۔ شہری انتظامیہ کے اندازوں کے مطابق ہڑتال سے مقامی صنعت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ یونین کے ایگزیکٹو بورڈ نے ہڑتال ختم کے بارے میں قرار کی بھرپور حمایت کی اور اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ واپس کام پر چلے جائیں۔ نیویارک کے گورنر جارج پاٹکی نے کہا تھا کہ ملازمین کے مطالبات پر اس وقت تک بات چیت ممکن نہیں ہے جب تک وہ واپس کام پر چلے نہیں جاتے۔ ملازمین کی یونین کو تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے کی جانے والی ہڑتال کے سلسلے میں شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ایک جج نے یونین کے تین رہنماؤں کو جیل بھیج دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
چونکہ ہڑتال کرنا ریاستی قانون کے تحت جرم ہے اس لیے یونین کو روزانہ دس لاکھ ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکہ عراق سے نکل جائے: ایران22 November, 2005 | آس پاس امریکہ میں ہزارویں سزائے موت02 December, 2005 | آس پاس نیویارک میں سکیورٹی سخت07 October, 2005 | آس پاس ایڈز کے نئے وائرس کا خوف13 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||