BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتالی رہنماؤں کو عدالت کا بلاوا
ہڑتال
ہڑتال کے دوسرے دن لوگوں کوسخت سردی میں دفتروں سے اپنے گھروں کو جانا پڑا۔
امریکہ میں ایک جج نے نیویارک میں ہڑتال کرنےوالے پبلک ٹرانسپورٹ ورکرز یونین کے تین لیڈروں کوجیل کی ہوا کھلانے کی دھمکی دی ہے۔

جسٹس تھیوڈور جونز نے یونین کے تینوں سربراہان کو جمعرات کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

شہر کی ٹرانسپورٹ ورکرز یونین (ٹی ڈبلیو یو) کے چونتیس ہزار کارکن منگل سے ہڑتال پر ہیں۔

ہڑتال اس وقت شروع ہوئی جب کارکنوں کے معاہدوں کے سلسلے میں چلنے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں نامناسب سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن ٹرانسپورٹ حکام نے کارکنوں پر مارپیٹ کے طریقے اپنانے کا الزام لگایا ہے۔

نیویارک کے قانون میں ٹرانسپورٹ کارکنوں کو ہڑتال سے باز رکھنے کے لیے جرمانے کی سزا موجود ہے لہذا ہڑتال کرنے والی یونین کو ایک ملین ڈالر فی دن کے حساب سے جرمانے کی رقم ادا کرنی ہے۔

یونین کے وکیل کا کہنا ہے کہ یونین اس پوزیشن نہیں کہ وہ جرمانے کی موجودہ رقم ادا کر سکے۔ ان کے مطابق یونین کے اکاونٹس میں اس وقت تین اعشاریہ چھ ملین کی رقم ہے۔

ہڑتال کے دوسرے دن لوگوں کو سخت سردی میں دفتروں سے اپنے گھروں کو جانا پڑا۔ ہڑتال کی وجہ سے کوئی متبادل بس سروس بھی موجود نہیں تھی جس سے لاکھوں افراد پیدل، سائیکلوں اور دوسرے لوگوں سے انکی گاڑیوں میں مدد مانگ کر دفتروں کو اور پھر وآپس اپنے گھروں کو گئے۔

شہر کے مئیر مائیکل بلوم برگ بھی ہڑتال کے دوسرے روز پیدل دفتر گئے۔ انہوں نے کہا کہ یونین لیڈروں کو جیل میں بند کرنے والی بات سے صورت حال بہتر نہیں ہو گی بلکہ مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے البتہ انہوں نے سخت جرمانے کی حمایت کی۔

یونین کے چونتیس ہزار کارکن ہڑتال پر ہیں

ٹرانسپورٹ ورکرز یونین ( ٹی ڈبلیو یو) اور میٹروپولٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی (ایم ٹی اے) کے درمیان تنخواہوں، ہیلتھ کیئر، پینشن اور کارکنوں کی بھرتی عمر کے معاملات پر جھگڑا چل رہا ہے۔

یونین کا کہنا ہے کہ ان کے بینفیٹس میں کٹوتی غیرضروری ہے کیونکہ ماس ٹرانسپورٹ سسٹم کے پاس اس وقت ایک بلین ڈالر کا سر پلس ہے۔ اس سرپلس کے بارے میں ایم ٹی اے کا کہنا ہے کہ دوبارہ انوسٹمنٹ کے لیے اس کا ہونا ضروری ہے۔

ٹی ڈبلیو یو کے چیف روجر ٹوسینٹ کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ ورکرز کے ساتھ مناسب اور باعزت سلوک روا نہیں رکھا جا رہا ہے جبکہ ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس نے یونین کو معقول آفر کی پیشکش کی ہے۔

ٹی ایم اے کے چئرمین پیٹر کیلیکوو نے یونین کے اس عمل کو نیویارک میں بسنے والوں کے منہ پر ایک تھپٹر قرار دیا۔

نیویارک میں سن انیس سواسی میں گیارہ روز کی ہڑتال کے بعد ہونے والی یہ پہلی ماس ٹرانسٹ ہڑتال ہے جس سے شہر کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر میں سائیکلوں کی دکانیں دیر تک کھلی رہیں اور لوگوں نے کافی عرصے بعد بڑی تعداد میں سائیکلیں خریدیں۔

پریس20 میڈیا سائٹ بند
امریکہ میں متبادل میڈیا کی بیس ویب سائٹ بند
یہ بھی امریکہ ہے
اٹلانٹا: عدالت میں جج اور رپورٹر کا قتل
پروفیسر رمضانامریکہ کےناپسندیدہ؟
پروفیسر رمضان اوکسفورڈ میں تعلیم دیں گے
کیوبا کے صدر فیڈل کاستروکاسترو کو پارکنسنز؟
سی آئی اے کی نئی رپورٹ کا دعویٰ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد